معاہدۂ مکہ میں مزید ممالک کی شمولیت کا خیرمقدم کریں گے: پاکستان
پاکستان نے معاہدۂ مکہ میں مزید ممالک کی شمولیت کا خیرمقدم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ مکہ معاہدے کے تحت ایک ملک پر حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ 7 اگست کو ہونے والا مکہ سمٹ انتہائی اہمیت کا حامل تھا، جبکہ مکہ معاہدہ برادرانہ تعلقات میں اہم پیش رفت اور امن و استحکام کے عزم کا عکاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مکہ معاہدے کے لیے اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔ معاہدہ تینوں ممالک کی سیکیورٹی کے لیے اہم ہے اور کسی بھی جارحیت کی صورت میں مشترکہ دفاع کے لیے ہے۔ پاکستان اس میں مزید ممالک کی شمولیت کا خیرمقدم کرے گا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان چیلنجز کے باوجود خطے میں امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی عرب، ایران اور کویت کے وزرائے خارجہ سے رابطہ کیا، جبکہ 11 اگست کو بحرین کے وزیر خارجہ سے بھی گفتگو ہوئی۔ بحرینی وزیر خارجہ نے مکہ معاہدے پر پاکستان کو مبارکباد دی۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے بطور ثالث پرامید ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد مفاہمت کے حوالے سے پاکستان اپنا موقف پہلے ہی واضح کرچکا ہے۔
ان کے مطابق جب فریقین کشیدگی اور تنازع سے تھک جائیں گے تو امن کا جو فریم ورک اسلام آباد مفاہمت پیش کرتا ہے، وہی مذاکرات کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اسلام آباد مفاہمت پر عملدرآمد کی مدت ختم ہونے میں 5 روز باقی ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ ایران کے دورے پر ہیں اور ایرانی قیادت سے ان کی ملاقاتیں ہوئی ہیں، جن میں امن اور دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کی گئی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان ملاقاتوں میں ہونے والی بات چیت یا پیغامات کی تفصیلات جاری نہیں کی جاسکتیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی گئی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ عمان اور ایران کے درمیان مذاکرات کو پاکستان اور دوست ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے کسی بھی معاہدے کی بڑی اہمیت ہوگی اور توقع ہے کہ مشکلات کے باوجود ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست مذاکرات جلد شروع ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران میں فوجی قیادت کی تبدیلی اس کا اندرونی معاملہ ہے اور پاکستان اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کرے گا۔
طاہر اندرابی نے باب المندب میں تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں اور پاکستان صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی پانیوں میں آزادانہ اور محفوظ جہاز رانی کی حمایت کرتا ہے اور اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان آزاد کشمیر کے عوام سمیت تمام کشمیریوں کے مکمل حقوق پر یقین رکھتا ہے۔
انہوں نے پاک ایران سرحد کے حوالے سے کہا کہ پاکستان مؤثر بارڈر کنٹرول یقینی بناتا ہے اور ایران کے ساتھ بھی یہی پالیسی ہے۔ ایرانی صدر کی جانب سے ایران امریکا جنگ کے دوران پاک ایران سرحد سے کسی شرپسند کو داخل نہ ہونے دینے کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہیں اور اس پر ایرانی صدر کے مشکور ہیں۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے لیے قائم اتحاد کا حصہ ہے۔ پاکستان بین الاقوامی پانیوں میں محفوظ جہاز رانی یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کو تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ واضح ہے اور اس کا مقصد کسی جارحیت کی صورت میں مشترکہ دفاع ہے۔ پاکستان معاہدے سے متعلق کسی بھی منفی تاثر یا منفی معاہدے کو مسترد کرتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان امریکا اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدے کا جائزہ لے رہا ہے۔ پاکستان سعودی عرب کے سول جوہری توانائی کے حق کا احترام اور حمایت کرتا ہے، تاہم اس حوالے سے تفصیلی بیان معاہدے کی مکمل تفصیلات سامنے آنے کے بعد جاری کیا جائے گا۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ٹرانسپیرنسی رپورٹ سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام میں شامل ہے اور اس حوالے سے اصلاحاتی ایجنڈا پہلے ہی جاری کیا جاچکا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے 3 جائزے مکمل ہوچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کے طریقہ کار میں معاہدوں پر دستخط کے لیے باقاعدہ قانونی طریقہ کار موجود ہے۔ وزیراعظم نے معاہدے پر دستخط کیے جو قائدِ ایوان ہیں۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے 10 اگست کو واضح کیا تھا کہ مکہ معاہدہ وزیراعظم، چیف آف ڈیفنس فورسز اور دفتر خارجہ کی حمایت سے کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے یقین دلایا کہ معاہدے سے قبل، اس کے بعد اور فی الوقت تمام قانونی مراحل پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔












