طالبان کی کابل واپسی کے 5 سال؛ افغانستان میں کیا کچھ تبدیل ہوا ہے؟
کابل سے امریکی انخلا اور طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کو پانچ سال گزر چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ سمیت دیگر اداروں کی رپورٹس کے مطابق افغانستان میں حالات بہتر ہونے کے بجائے سنگین انسانی بحران میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ خواتین اور لڑکیوں پر سخت پابندیوں، بڑھتی ہوئی غربت اور غذائی قلت نے ملک کی بڑی آبادی کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے، جبکہ عالمی امداد میں بڑی کمی کے بعد افغانستان عالمی توجہ سے بھی اوجھل ہوتا جا رہا ہے۔
امریکا کے کابل سے افراتفری میں انخلا اور طالبان کے اقتدار پر کنٹرول کو پانچ برس مکمل ہو چکے ہیں لیکن اس عرصے میں افغانستان بدترین انسانی حقوق اور انسانی بحرانوں کے شکار ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق امریکا نے 20 سالہ جنگ کے دوران افغانستان پر تقریباً 2.3 کھرب ڈالر خرچ کیے تاہم کابل سے امریکی انخلا اور طالبان کی واپسی کے بعد افغانستان اور اس کے عوام عالمی عدم توجہ کا شکار ہوگئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان کو اس وقت انسانی پیدا کردہ اور قدرتی بحرانوں کے ایک ایسے امتزاج کا سامنا ہے جس نے لاکھوں بچوں کو بھوک اور غذائی قلت کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے، جب کہ خواتین اور لڑکیوں سے ان کے بنیادی حقوق بھی بڑی حد تک چھین لیے گئے ہیں۔
افغانستان کی تقریباً 45 فیصد آبادی کو انسانی امداد کی ضرورت ہے لیکن طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد بین الاقوامی امداد میں نمایاں کمی آئی ہے اور اس کمی کا سب سے زیادہ اثر خواتین اور لڑکیوں پر پڑا ہے۔
امریکا کبھی افغانستان کے لیے امداد کا سب سے بڑا ذریعہ تھا تاہم اب وہ افغانستان کو امداد دینے والے سرفہرست پانچ ممالک میں بھی شامل نہیں رہا۔
لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی
افغانستان اس وقت دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں کو چھٹی جماعت کے بعد تعلیم حاصل کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ اس پابندی کو اتنا عرصہ بیت چکا ہے کہ لڑکیوں کی ایک پوری نسل سیکنڈری اسکول میں قدم رکھے بغیر جوان ہو رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے مطابق اس وقت تقریباً 24 لاکھ لڑکیاں اسکول سے باہر ہیں۔
خواتین پر ملازمتوں کے حوالے سے بھی پابندیاں عائد ہیں جب کہ انہیں عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے اور طویل سفر کے لیے مرد سرپرست کی موجودگی کا بھی پابند کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی خواتین کے لیے کام کرنے والی ایجنسی ’یو این ویمن‘ کے مطابق تقریباً نصف افغان خواتین اب مہینے میں صرف ایک یا دو مرتبہ گھر سے باہر نکلتی ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی تنہائی نے ذہنی صحت کے بحران کو جنم دیا ہے اور ادارے کے مطابق 10 میں سے سات خواتین اپنی ذہنی صحت کو ’خراب‘ یا ’بہت خراب‘ قرار دیتی ہیں۔
خواتین پر تشدد اور کم عمری کی شادی
سی این این کے مطابق افغانستان میں خواتین پر تشدد کے حوالے سے بھی صورت حال تشویش ناک ہے۔
افغان طالبان نے چند ماہ قبل ایک فرمان جاری کیا تھا جس میں مردوں کو بیویوں پر اس شرط پر تشدد کی اجازت دی گئی تھی کہ مارپیٹ سے ہڈیاں نہ ٹوٹیں یا جسم پر نمایاں اور مستقل زخم نہ آئیں۔ ایک دوسرے فرمان میں شادی کے لیے قانونی عمر جو کم از کم 16 سال تھی، اسے بھی ختم کر دیا گیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے حقوقِ اطفال نے خبردار کیا ہے کہ اس حکم سے کم عمری کی شادی کو قانونی جواز مل سکتا ہے، جو طالبان کی واپسی کے بعد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
انسانی امداد میں بڑی کمی
خواتین پر پابندیوں کے علاوہ افغانستان میں 2022 کے بعد مجموعی انسانی امداد میں تقریباً 70 فیصد کمی آئی ہے۔ یو این ویمن کے مطابق افغانستان میں ایک کروڑ 70 لاکھ سے زائد خواتین اور لڑکیاں انسانی امداد پر انحصار کرتی ہیں۔
اقوام متحدہ کے حالیہ جائزے میں شامل خواتین کے زیرِ انتظام نصف سے زیادہ تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر امداد میں کمی جاری رہی تو وہ آئندہ ایک سال کے دوران اپنا کام بند یا معطل کرنے پر مجبور ہو سکتی ہیں۔
بحران کے بچوں پر اثرات
افغانستان میں جاری بحران سے بچے بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ شمالی افغانستان کے ایک دور دراز ضلع میں تقریباً 10 ہزار افراد کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے والا واحد ادارہ ہے۔ اس ادارے کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں تقریباً ہر 10 میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے۔
یونیسیف کے مطابق رواں سال ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہوگی، تاہم امداد میں کمی کے باعث تقریباً 600 صحت کے مراکز بند ہو چکے ہیں۔
افیون کی کاشت
امریکی اور اتحادی افواج کی موجودگی کے دوران افغانستان کے دیہی علاقوں میں آباد بیشتر گھرانے آمدنی کے لیے افیون کی کاشت پر انحصار کرتے تھے۔
واشنگٹن نے دو دہائیوں کے دوران منشیات کے خلاف پالیسی پر تقریباً 9 ارب ڈالر خرچ کیے، لیکن اس مہم کو مسلسل ناکام قرار دیا جاتا رہا۔ رپورٹ کے مطابق اس خطیر رقم کے نتیجے میں طالبان کی آمدنی اور منشیات کی معیشت مزید مضبوط ہوئی۔
سی این این کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد 2022 میں پوست کی کاشت پر پابندی عائد کردی گئی تھی جس سے افیون کی پیداوار میں تقریباً 95 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
تاہم اس پابندی نے دیہی خاندانوں کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ختم کردیا اور اس کا کوئی مؤثر متبادل معاشی بھی ذریعہ پیدا نہیں کیا گیا۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اس خلا کو اب ’میتھ ایمفیٹامین‘ جیسی مصنوعی منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ تیزی سے پُر کر رہی ہے۔
غیر ملکی امداد اور منجمد اثاثے
امریکی انخلا سے قبل افغانستان کے سرکاری اخراجات کا تقریباً تین چوتھائی حصہ غیر ملکی امداد سے پورا ہوتا تھا۔ طالبان کی واپسی کے بعد یہ مالی معاونت بڑی حد تک ختم ہوچکی ہے، جب کہ طالبان حکومت کے انسانی حقوق سے متعلق خراب ریکارڈ کے باعث مرکزی بینک کے اربوں ڈالر کے اثاثے امریکا اور اس کے اتحادیوں نے منجمد کر رکھے ہیں۔
مغربی حکومتوں کے ساتھ مذاکرات میں ان اثاثوں کی بحالی ایک اہم معاملہ ہے تاہم لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی مذاکرات میں بننے والی بنیادی رکاوٹوں میں شامل ہے۔
یوں وہ مالی وسائل جو کبھی لڑکیوں کی تعلیم سمیت سرکاری خدمات کی فراہمی میں استعمال ہوتے تھے، اب طالبان پر دباؤ ڈالنے کے لیے روکے جا رہے ہیں۔ تاہم ان اقدامات کے باوجود طالبان نے خواتین سے متعلق پالیسی میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں کی ہے۔
سیکیورٹی اور عالمی تعلقات
سی این این کے مطابق طالبان کے زیر انتظام افغانستان میں کمزور اداروں اور بڑھتی ہوئی غربت نے بعض علاقوں میں ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جہاں قانون کی عمل داری کمزور ہے اور ’داعش خراسان‘ اور ’القاعدہ‘ جیسے گروہ اب بھی سرگرم ہیں۔
روس اور چین کے علاوہ کسی بھی اہم ملک نے طالبان حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں کیے۔ روس نے گزشتہ سال طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا جب کہ چین نے دسمبر 2023 میں طالبان حکومت کے لیے اپنا سفیر مقرر کیا تھا۔
واضح رہے کہ امریکا نے 2001 میں افغانستان پر حملہ اور 20 سالہ فوجی موجودگی کے دوران چار بڑے دعوے اور وعدے کیے تھے، جس میں افغانستان سرزمین کو دہشت گردوں کی آماجگاہ بننے سے روکنا، مضبوط جمہوری نظامِ حکومت کا قیام، خواتین کے حقوق اور تعلیم کا تحفظ اور منشیات کا خاتمہ کرکے خوشحال معیشت بنانا تھا۔
تاہم 20 سال تک جنگ پھر امریکی انخلا اور اب طالبان کی واپسی کے پانچ سال بعد افغانستان میں حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوچکے ہیں۔ بھوک، قابلِ روک تھام بیماریوں اور بنیادی انسانی حقوق پر پابندیوں نے لاکھوں افراد کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر رکھا ہے۔
افغانستان کی تعمیرِ نو کے لیے امریکا کے سابق خصوصی انسپکٹر جنرل جان سوپکو نے سوال اٹھایا کہ اگر مستقبل میں امریکا کو یوکرین، ایران یا کسی اور تنازع میں اتحادیوں کی مدد درکار ہوئی تو افغانستان کے ساتھ کیے گئے سلوک کے بعد دوسرے ممالک واشنگٹن پر کتنا اعتماد کریں گے۔
ان کے بقول افغانستان میں موجودہ حالات اس بات کا ایک بڑا امتحان ہیں کہ عالمی برادری طالبان حکومت اور افغان عوام کے ساتھ آئندہ کس طرح کا تعلق اختیار کرتی ہے۔














