ٹرمپ کے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے پر وائٹ ہاؤس کی وضاحتیں

صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کے حوالے سے کسی اقدام پر کوئی بات چیت نہیں کی: برائن شوارٹز
شائع 15 اگست 2026 12:51pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان محض مذاق تھا، وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار نے واضح کردیا۔

وال اسٹریٹ جرنل کے صحافی برائن شوارٹز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ اس وقت مذاق کررہے تھے جب انہوں نے ایران کے ساتھ جنگ ختم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کی بات کی۔

برائن شوارٹز کے مطابق عہدیدار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں کے ساتھ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کے حوالے سے کسی اقدام پر کوئی بات چیت نہیں کی۔

ٹرمپ نے یہ بیان نیویارک میں ایک سیاسی اجتماع سے خطاب کے دوران دیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ایران کو شکست دینے کے بعد امریکا ’’بہت جلد‘‘ آبنائے ہرمز کو امریکا کا علاقہ قرار دے گا۔ ٹرمپ نے یہ بات مسکراتے ہوئے کہی تھی، جس کے بعد انہوں نے اسے درست بھی قرار دیا تھا۔

امریکی صدر نے اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کا دعویٰ کیا تھا۔ 12 اگست کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا کو آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور امریکی بحری ناکہ بندی کو آہنی دیوار قرار دیا تھا۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے، جہاں سے عالمی توانائی کی ترسیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث اس آبی گزرگاہ کی صورتحال عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔

ایران نے بھی آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کے دعوے کو مسترد کیا ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ آبنائے ہرمز ماضی میں ایران کا تھا، اب بھی ایران کا ہے اور آئندہ بھی ایران کا ہی رہے گا۔

وائٹ ہاؤس کے سینئر عہدیدار کی جانب سے ٹرمپ کے بیان کو مذاق قرار دیے جانے کے بعد فی الحال ایسا کوئی اشارہ سامنے نہیں آیا کہ امریکی انتظامیہ واقعی آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کے لیے کوئی عملی اقدام کر رہی ہے۔