جسٹس سرمد جلال عثمانی جانبدار شخصیات قرار
فائل فوٹو
اسلام آباد:پاناما لیکس پر تحقیقات کیلئے کمیٹی کا سربراہ تلاش کرنا گویا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگیا۔
کئی جج صاحبان کی جانب سے انکار کے بعد سابق جسٹس سرمد جلال عثمانی کی تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی پر آمادگی کی خبریں آرہی تھیں، لیکن خبر کی تصدیق سے پہلے ہی سابق جسٹس کی سیاسی وابستگی کے حوالے سے سوالات اٹھ گئے ، اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے جسٹس سرمد جلال عثمانی کو جانبدار شخصیات قرار دے دیا۔
اللہ اللہ کرکے حکومت کو پاناما لیکس پر تحقیقاتی کمیشن کے لئے سربراہ ملنے کی امید پیدا ہوئی،تو اپوزیشن لیڈر آڑے آگئے، سابق جسٹس سرمد جلال عثمانی کی غیرجانبداری کو مشکوک بنا دیا۔
کراچی میں میڈیا گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ کوئی جج پاناما لیکس کمیشن کی سربراہی کیلئے راضی نہیں تو معاملے پر پارلیمانی کمیٹی قائم کردی جائے،اور رضا ربانی کو اس کا سربراہ بنا دیا جائے۔
اپوزیشن لیڈر نے واضح کیا کہ پاناما لیکس کے معاملے پر اپوزیشن متحد ہے، چند افراد کی وجہ سے پورا نظام لپیٹنے نہیں دیں گے، صرف انہی لوگوں کو گھر جانا ہوگا جو اس معاملے میں ملوث ہیں۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔