پنجاب اسمبلی :آئندہ مالی سال کے بجٹ پر تیسرے روز بھی بحث
اپوزیشن کے تنقیدی جملے بھی ایوان میں گونجتے رہے - فائل فوٹولاہور:پنجاب اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث تیسرے روز بھی جاری رہی۔
پنجاب اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث کے دوران حکومتی اراکین نے مختلف شعبہ جات کی ترقی کے لئے مختص بجٹ کو صوبے اور عوام کی خوشحالی کا ضامن قرار دیا۔ لیکن دوسری جانب اپوزیشن کے تنقیدی جملے بھی ایوان میں گونجتے رہے۔
حکومتی رکن اسمبلی، ڈاکٹر نادیہ عزیز نے مطالبہ کیا کہ سرگودھا میں ہائیکورٹ بینچ کا قیام عمل میں لایا جائے جس سے اردگرد کے اضلاع کے لوگوں کو بھی انصاف کے حصول کی خاطر لاہور نہ آنا پڑے۔
غیاث الدین، عفت معراج، رمیش سنگھ اور دیگر حکومتی اراکین نے کاشتکاروں کے لئے ایک سو ارب روپے کے پیکیج کو زراعت کی ترقی کے لئے ایک بہترین تحفہ قرار دیا۔
اپوزیشن رکن اسمبلی ڈاکٹر محمد افضل اور خدیجہ فاروقی نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو فرضی اعداد و شمار پر مبنی ایک دستاویز قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی غلط پالیسیوں اور شاہانہ اخراجات کی وجہ سے سرپلس صوبہ اب 533 ارب کا مقروض ہو چکا ہے۔
بہتربناتدی سہولاکت نہ ہونے کی وجہ سے جنوبی پنجاب کے عوام میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔