کراچی:امجد صابری قتل کیس تاحال حل نہ ہوسکا

شائع 28 جولائ 2016 05:33pm
فائل فوٹو فائل فوٹو

کراچی:عالمی شہرت یافتہ قوال امجدصابری کے قتل کو چالیس روز گزر گئے، حکومت قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے پرعزم تو ہے مگر آدھا تیتر آدھا بٹیر کی مانند پولیس قاتلوں کی گرفتاری یا عدم گرفتاری کے بیچ کہیں پھنسے ہوئی ہے۔

کراچی کے علاقے لیاقت آباد  میں معروف قوال امجد صابری کو موٹر سائیکل سوار ملزمان نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔بائیس جون کو پیش آنے والے واقعے کو چالیس روز گزر گئے،امجد صابری کے قتل کی تفتیش میں روز پیش رفت کے دعوے کیے گئے،کئی لوگ پکڑے گئے، کئی چھوٹ گئے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج بھی کئی زاویوں سے سامنے آئی ،پولیس نے موٹر سائیکل سوار دو افراد پر شک کا اظہار بھی کیا لیکن ہوا کیا ، کچھ بھی نہیں۔ہائی پروفائل کیس ہے، صرف اعتراف کو گرفتاری کا جواز نہیں بناسکتے۔

 تئیس جولائی کو خبر لیک کی گئی قاتل عمران صدیقی پکڑا گیا، اعتراف بھی کرلیا۔پیسوں کیلئے قتل کیا، قتل کی وجہ معلوم نہیں،قتل کرانے والے نے وجہ نہیں بتائی۔اگلے روز کراچی پولیس چیف مشتاق مہر نے گرفتاری کی تردید کردی۔

ایک روز گزرا تو ایڈیشنل آئی جی کاونٹر ٹریریزم ڈاکٹر ثنااللہ عباسی نے نئی وضاحت پیش کردی جو لوگ زیر حراست میں وہ جرم کا اعتراف کررہے ہیں مگر سپورٹیو ایوڈینس نہیں ملی۔

آج ایک اور گرفتاری کی خبر لیک کردی گئی، اس بار مبینہ ملزم نعمان عرف بچہ پر الزام ہے۔کراچی پولیس اس گرفتاری سے بھی انکاری ہے۔کیس کے عدم حل کے باعث عوام میں بتدریج مایوسی میں اضافہ ہورہا ہے ،لہذا ضروری ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کیس کو جلد از جلد کریں تاکہ عوام میں اعتماد کی فضا پیدا ہوسکے۔