کسی مسلمان بھائی کا جوٹھا پانی پینے سے کیا ہوتا ہے؟
آج کل ہر طرف نفسا نفسی کا ماحول ہے، ایک مسلمان کو اگر کسی دوسرے مسلمان کا جوٹھا پانی پینے کا بھی کہا جائے تو وہ ایسا کرنے میں عار محسوس کرتا ہے۔
لیکن آج ہم آپ کو جو بات بتانے جارہے ہیں اسے پڑھنے کے بعد شاید آپ ایسا نہ کریں۔ ہمارے پیارے آقا حضرت محمد ﷺ کا فرمان عالی شان ہے۔
'عاجزی کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے مسلمان بھائی کا جوٹھا یعنی بچا ہوا پانی پی لے اور جو اپنے بھائی کا جوٹھا پیتا ہے اس کے 70 درجات بلند کردیئے جاتے ہیں، 70 گناہ مٹادیئے جاتے ہیں اور اس کے لئے 70 نیکیاں لکھی جاتی ہیں'۔ (کنزالاعمال، الحدیث 5745، ج 3، ص 51)
نبی پاک ﷺ کے فرمان کے مطابق اگر کسی مسلمان بھائی کا جوٹھا پانی پینے کا اتنا ثواب اور انعام ہے تو ہمیں ضرور کسی دوسرے مسلمان بھائی کا جوٹھا پانی پینے میں شرم یا عار محسوس نہیں کرنا چاہیئے۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔