جسم میں پلاسٹک پر مبنی کیمیکلز کی ذیادتی، فاسٹ فوڈ ذمہ دار
اگر آپ بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جنہیں باہر کھانا کھانے کا شوق ہے تو خبردار ہوجائیے۔ باہر کا کھانا نہ صرف آپ کی جیب پر بھاری پڑ سکتا ہے بلکہ آپ کی صحت پر بھی۔ اس بات کا تعلق اس سے نہیں ہے کہ آپ کسی میعاری جگہ پر کھانا کھا رہے ہیں یا کسی ٹھیلے وغیرہ کا ناقص کھانا کھا رہے ہیں۔ فاسٹ فوڈ کسی بھی قسم کا یا جگہ کا ہو سکتا ہے۔ باہر کا کھانا جسم میں فتھالیٹ ایسڈ کے درجے بڑھانے کی طاقت رکھتا ہے، چاہے وہ گھر پر منگوایا گیا ہو یا باہر جا کر کھایا گیا ہو۔
فتھالیٹ ایک کیمیائی فارمولا ہے جو کھانے پینے کی اشیاء کی پیکیجِنگ اور پروسیسِنگ میں استعمال ہوتا ہے۔ جب یہ جسم میں جاتا ہے تو ہارمونز میں بگاڑ پیدا کر دیتا ہے۔ اسی لئے اس سے بننے والے نمکیات اور معدنیات جسم میں ہر قسم کی بیماری کی وجہ بن سکتے ہیں۔
ایک مطالعہ میں باہر کھانا کھانے والوں کا، گھر کا بنا کھانا کھانے والوں سے موازنہ کیا گیا۔ اس مطالعے کا پہلا مقصد یہ تھا کہ دونوں طرح کے لوگوں پر فتھالیٹ کے اثر کا مشاہدہ کیا جائے۔ جو لوگ باہر کھانے والے تھے ان کے جسم میں فتھالیٹ کی مقدار گھر کا کھانا کھانے والوں سے 35 فیصد ذیادہ تھا۔
مطالعہ تجویز کرتا ہے کہ گھر کے پکے کھانے میں فتھالیٹ کی ذیادتی کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ فتھالیٹ خصوصاً بانجھ پن، حمل کے دوران پیش آنے والی مشکلات اور صحت سے متعلق دیگر مسائل کی وجہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دمے کی بیماری اور عورتوں میں مختلف قسم کے کینسیر بھی پیدا کر سکتا ہے. حاملہ عورتوں، نوجوان لڑکے لڑکیوں اور بچوں میں ہارمونز کے بگاڑ کا خطرہ ذیادہ ہوتا ہے۔ اس لئے ان کو ذیادہ سے ذیادہ باہر کے کھانے سے گریز کرنا چاہیئے۔
اس کے علاوہ گھر کا پکا کھانا کھانے سے جسم میں غیر ضروری فیٹس، شوگر اور معدنیات کو بھی پرورش پانے سے روکا جاسکتا ہے۔ ساتھ ساتھ کھانے کی اشیاء میں فتھالیٹس کے استعمال پر حکومت کی طرف سے بین بھی لگایا جاسکتا ہے۔ اس طرح انسان کم سے کم فتھالیٹ سے بھرا کھانا کھانے سے بچ سکیں گے۔
Thanks to ht

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔