تحفظ حقوق نسواں بل غیر شرعی قرار

اپ ڈیٹ 03 مارچ 2016 05:56pm

cii

اسلام آباد:اسلامی نظریاتی کونسل نے پنجاب کے تحفظ حقوق نسواں بل کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کرنے کی رائے دی ہے۔ کہتے ہیں کونسل کسی چیز میں فریق نہیں بننا چاہتی۔ خیر خواہی کی بنیاد رہنمائی کرنے کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔

اسلامی نظریاتی کونسل کا اجلاس مولانا محمد خان شیرانی کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوا۔جس میں پنجاب میں پاس ہونے والے تحفظ حقوق نسواں کے نکات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران اسلامی نظریاتی کونسل کے بیشتر اراکین بل منظور کرانے پر اراکین پنجاب اسمبلی پر برس پڑے اور بل کو غیر شرعی اور غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کرنے کی تجویز پیش کردی۔ مولانا شیرانی کہتے ہیں مسلم لیگ کی حکومت آتی ہے تو اسلامی قانون سازی میں مشکلات آتی ہیں۔ اسے اپنے طرز عمل کا جائزہ لینا ہوگا۔

مولانا شیرانی نے کہا کہ ہماری تجویز خواتین کے حقوق سے متعلق قانون سازی آئین کے آرٹیکل اکتیس،پینتیس اور قرآن پاک کی رہنمائی لے کر بنائے جائیں۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے تمام اراکین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تحفظ حقوق نسواں میں شوہر کو گھر سے دو روز کے لیے باہر نکالنے کی شق غیر اسلامی ہے۔خواتین کا تحفظ چاہتے ہیں لیکن غیر شرعی اور غیر اسلامی طریقہ کار کسی صورت منظور نہیں۔