سپریم کورٹ کراچی رجسٹری:تھانوں کے قیام کے حوالے سے رینجرز کی درخواست نمٹ گئی

شائع 10 مارچ 2016 01:17pm

supreme-court

کراچی:سپریم کورٹ نے تھانوں کے قیام کے حوالے سے رینجرز کی درخواست نمٹا دی۔ عدالت کا کہنا ہے کہ قوانین میں ترمیم اسمبلیوں کا اختیارہے،اس حوالے سے کوئی حکم نہیں دے سکتے، عدالت عظمی نے سرکاری زمینوں کی الاٹمنٹ کا ریکارڈ اور پے رول پر رہا افراد کی رہائی کی وضاحت کے لیے سابق سیکریٹری داخلہ کو بھی طلب کرلیا۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پولیس کے تفتیشی فنڈزمیں خرد برد ،خلاف ضابطہ تقرریوں اورآئی جی سندھ کے سروس ایکٹ سے متعلق کیس میں دوران سماعت آئی جی سندھ نے بینچ کے سربراہ جسٹس امیرہانی مسلم اورفیکٹس فائنڈنگ کمیٹی پرعدم اعتماد کا اظہارکردیا۔ غلام حیدرجمالی کا کہنا تھا کہ آرٹیکل چودہ کے تحت انہیں اس کا حق حاصل ہے۔جسٹس امیرہانی مسلم نے ریمارکس دئے کہ کیس میرٹ پرچلایا جا رہا ہے ،آئی جی کو فیصلے پراعتراض ہوا تو وہ نظر ثانی کی درخواست دائر کر سکتے ہیں۔

عدالت عظمٰی نے رینجرز کی جانب سے تھانوں کے قیام ،ایف آئی آرکے اندراج ، تفتیش اور چالان کے اختیارات سے متعلق درخواست نمٹا دی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اس کے لیے قوانین میں ترامیم لازم ہیں۔ قوانین بنانا ان کا نہیں اسمبلیوں کا کام ہے ، کوئی فیصلہ نہیں دے سکتے
پولیس کی جانب سے بلائنڈ کیسز میں پیش رفت سے متعلق رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی گئی۔عدالت نے پولیس کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کارروائیاں جاری رکھنے کی ہدایت کی۔

پے رول پر رہا افراد سے متعلق سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ پی رول پر رہا سات میں سے تین ملزمان کو اغوا برائے تاوان کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی ، ان افراد کی رہائی کی وضاحت قابل قبول نہیں،عدالت نے آئندہ سماعت پر سابق سیکریٹری داخلہ کو طلب کر لیا۔

سرکاری زمینوں کی الاٹمنٹ سے متعلق معاملے کی سماعت کے بعد عدالت عظمی نے نیب کو انکوائری جاری رکھنے اوررپورٹ دو ماہ میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔