سپریم کورٹ کی بحریہ آئیکون ٹاورکیس کی تحقیقات جلد مکمل کرنے کی ہدایت

اپ ڈیٹ 04 جون 2020 10:33am
فائل فوٹو

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے بحریہ آئیکون ٹاورکیس کی تحقیقات جلد مکمل  کرنے کی ہدایت کردی اورحتمی ریفرنس کی کاپی6جولائی تک پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کے ملزمان ڈاکٹرڈنشاہ اور جمیل بلوچ کی درخواست ضمانت پرسماعت کی۔

دوران سماعت جسٹس قاضی امین نے بحریہ آئیکون ٹاورکیس کے شریک ملزم زین ملک کی عدم گرفتاری پربرہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ زین ملک اورڈاکٹرڈنشاہ 50 فیصد کے پارٹنرہیں،نیب نے زین ملک کو گرفتارکیوں نہیں کیا؟۔

جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ نیب زین ملک کا سہولت کارکیوں بنا ہوا ہے؟نیب کا رویہ تمام ملزمان کے ساتھ ایک جیسا کیوں نہیں؟سب کچھ نوشتہ دیوار ہے،بس کردیں اب بہت ہوچکا۔

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ آئیکون ٹاور کیلئے جس وزیراعلیٰ نے زمین کی منظوری دی وہ کہاں ہے؟کیا ریاست کی زمین پرشاندارعمارت بنانا درست ہے؟،جس پر نیب پراسیکیوٹرنے بتایا کہ آئیکون ٹاور کیلئے ابن قاسم کی زمین الاٹ کی گئی۔

ڈاکٹرڈنشا کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل ستمبر 2008 میں وزیراعلیٰ کے مشیربنے،بحریہ آئیکون کیلئے زمین اپریل 2008 میں الاٹ ہوئی۔

جسٹس عمرعطا ءبندیال نے استفسار کیا کہ کیا مشیربننے سے پہلے ڈاکٹرڈنشاہ کی حکومت کے ساتھ دشمنی تھی؟ایسی بات نہ کریں جس سے آپ کا کیس کمزورہو۔

جسٹس قاضی امین کا کہنا تھا کہ ایسی باتوں کیلئے دستاویزات دیکھنے کی ضرورت نہیں۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے سماعت 6جولائی سے شروع ہونے والے ہفتے تک ملتوی کردی۔