پنجاب میں آندھی اور بارش کے باعث درخت، چھتیں اور دیواریں گرنے سے 3 افراد جاں بحق

شدید آندھی کے باعث پنجاب کے کئی علاقوں میں بجلی کا نظام بھی متاثر ہوا۔
شائع 15 مئ 2026 10:35pm

پنجاب کے مختلف شہروں میں شدید آندھی اور بارش کے باعث پیش آنے والے مختلف حادثات میں 3 افراد جاں بحق جب کہ 24 افراد زخمی ہو گئے۔ تیز ہواؤں کے باعث درخت، چھتیں، دیواریں، سائن بورڈز اور شیڈ گرنے کے متعدد واقعات پیش آئے جب کہ کئی علاقوں میں بجلی کا نظام بھی متاثر ہوا۔

ریسکیو حکام کے مطابق لاہور، فیصل آباد، ملتان، بورے والا، میاں چنوں، مظفر گڑھ، جھنگ، ننکانہ صاحب اور ڈی جی خان سمیت مختلف شہروں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آندھی اور بارش کے باعث متعدد حادثات رپورٹ ہوئے۔

لاہور میں آندھی اور بارش کے دوران درخت، شیڈ اور بل بورڈ گرنے کے 6 مختلف واقعات پیش آئے، جن میں 2 افراد جاں بحق اور 6 زخمی ہوئے۔ بادامی باغ لاری اڈا کے قریب درخت گرنے سے 50 سالہ اعجاز جاں بحق جب کہ ایک شخص زخمی ہوا۔ رنگ محل کے قریب شیڈ گرنے کے حادثے میں 21 سالہ بلال جان کی بازی ہار گیا۔

فیصل آباد میں دیواریں، چھتیں اور درخت گرنے کے 7 مختلف حادثات میں ایک بچہ جاں بحق جب کہ 9 افراد زخمی ہوئے، جاں بحق ہونے والے 13 سالہ بچے کی شناخت حیدر علی کے نام سے ہوئی۔

ڈی جی خان میں 2 مختلف مقامات پر آسمانی بجلی گرنے کے باعث 3 افراد زخمی ہوئے جب کہ مظفر گڑھ میں درخت، سولر پینل اور دیواریں گرنے کے 4 حادثات میں چار افراد زخمی ہوئے۔

جھنگ اور ننکانہ صاحب میں بھی آندھی اور بارش کے باعث حادثات پیش آئے جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق شدید زخمیوں کو فوری طبی امداد کے بعد قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔

دوسری جانب ملتان، بورے والا اور میاں چنوں میں تیز ہواؤں کے باعث بجلی کا نظام متاثر ہوا جب کہ مختلف علاقوں میں سائن بورڈز اور درخت گرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بارش اور ژالہ باری کا الرٹ جاری

دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے آئندہ 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کا الرٹ جاری کردیا ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق موجودہ صورت حال این ای او سی کی جانب سے 3 سے 4 ماہ قبل جاری موسمی جائزہ کے عین مطابق ہے، ملک میں جاری موسمی صورت حال این ای او سی کی جانب سے جاری پیشگی الرٹس کے عین مطابق ہے۔ این ڈی ایم اے نے مون سون نے قبل پیشگی اقدامات کا جائزہ لیا۔

این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ آئندہ 12سے24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش اورکہیں کہیں ژالہ باری کا امکان ہے، اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہوسکتی ہے جب کہ چند مقامات پر ژالہ باری متوقع ہے۔

مری، راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، سیالکوٹ، گجرات، گوجرانوالہ،نارووال، منڈی بہاؤالدین،لاہور،شیخوپورہ،فیصل آباد، سرگودھا، ساہیوال اور اوکاڑہ کے علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے جب کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ کہیں کہیں ژالہ باری کا امکان ہے، چترال، دیر، سوات، صوابی، کالام، منگورہ، مالاکنڈ، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، مردان، نوشہرہ، پشاور، کوہاٹ،چارسدہ، ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقوں میں بارش متوقع ہے۔

سندھ کے مختلف علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر ژالہ باری کا امکان ہے، حیدرآباد، کراچی، ماتلی، مٹیاری، ٹنڈو الہ یار، ٹنڈو محمد خان، ٹھٹھہ، بدین، میرپور خاص، سجاول، جامشورو اور گردونواح کے علاقوں میں بارش ہوسکتی ہے۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر ژالہ باری کا امکان ہے جب کہ کوٹہ، ژوب، ْقلعہ سیف اللہ ، قلعہ عبداللہ، پشین، چمن، لور الائی، خضدار، قلات، مستونگ، زیارت، سبی، بارکھان، کوہلو، ڈیرہ بگٹی،سوراب، حب، گوادر اورکیچ میں بارش متوقع ہے۔

ترجمان این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ شمالی علاقہ جات میں بڑھتے درجہ حرارت کے باعث گلیشیئرز پگھلنے سے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے، شہری گلیشیائی جھیلوں کے قریب جانے اور پر خطر ڈھلوانوں پر قیام سے اجتناب کریں، احتیاطی تدابیر اختیار کریں، جنوبی علاقوں میں تیز ہواؤں اور ممکنہ ژالہ باری کے باعث کمزور تعمیرات، سولرپینل اور گاڑیوں کو نقصان کا خدشہ ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پہاڑی علاقوں میں بارش کے باعث سفر میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور دورانِ سفر احتیاط برتیں،آندھی اور خراب موسم کے دوران محفوظ مقامات پر رہیں جب کہ مقامی انتظامیہ اور موسمی ایڈوائزری پر عمل کریں۔