پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری کا معاملہ سینیٹ میں پہنچ گیا

اپ ڈیٹ 05 جون 2020 10:53am
فائل فوٹو

اسلام آباد:پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری کا معاملہ سینیٹ میں پہنچ گیا، سینیٹرمشاہد اللہ خان نے کہا کہ عمران خان اوراسد عمرنے کہا تھا اسٹیل ملزچلا کردکھائیں گے اب چلائیں ،ووٹ کیلئے بڑھکیں مارنے والے اب استعفیٰ دیں۔

مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا کہ ملک ڈیفالٹ کی طرف جا رہا ہے،اسٹیل ملز کے ملازمین کا کیا قصور ہے؟۔

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم کا کہنا تھا کہ سٹیل ملز کے حوالے سے ایون میں الگ بحث کرائی جائے۔

وفاقی وزیرحماد اظہر نے کہا کہ 2008 سے 2009 تک اسٹیل مل خسارے میں تھی،2015 میں اسٹیل ملزکو بند کر دیا گیا،ساڑھے 5سال سے 35 ارب کی تنخواہ دی جا رہی ہے،اسٹیل ملز کا قرضہ 211ارب کا قرضہ ہےاور 176 ارب کا نقصان ہے،ملازمین کو اوسط 23 لاکھ روپے دیئے جائیں گے اوربعض کوتو70لاکھ روپے ملیں گے۔

حماد اظہرنے مزید کہا کہ چاہتے ہیں اسٹیل ملز کو نجی پارٹنرشپ کے ساتھ چلائیں،اسٹیل ملزکی قرض ری اسٹرکچرنگ کے بعد نجکاری کی جانب جائیں گے۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اسٹیل ملز ملازمین کی ملازمت سے برطرفی کا معاملہ متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا ۔