Aaj TV News

BR100 4,439 Increased By ▲ 19 (0.44%)
BR30 22,677 Increased By ▲ 65 (0.29%)
KSE100 42,505 Increased By ▲ 170 (0.4%)
KSE30 18,046 Increased By ▲ 102 (0.57%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 288,047 747
DEATHS 6,162 9
فائل فوٹو

اسلام آباد:  ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ برطانیہ میں ڈیکسا میتھازون سے نتائج مثبت آئے ہیں، اس دوا کے استعمال سے کورونا وائرس سے اموات میں کمی واقع ہوگی۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ڈیکسا میتھازون کورونا وائرس کے خلاف پہلا علاج ہے، پاکستان میں ماہرین کی کمیٹی ڈیکسا میتھازون کے استعمال پر غور کرے گی، ڈبلیو ایچ او نے کورونا کے علاج میں اسے اہم پیشرفت قرار دیا ہے، ڈبلیو ایچ او نے کورونا مریضوں کیلئے ڈیکسامیتھازون کو خوش آئند کہا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی ماہرین نے تشویش ناک مریضوں کی جان بچانے والی دوا تلا ش کرلی ہے، "ڈیکسا میتھا زون” سستا اسٹیرائڈ ہے جو تشویشناک مریضوں کی صحتیابی میں مدد دیتا ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق ڈیکسا میتھا زون کے استعمال سے وینٹی لیٹر پر موجود مریضوں کی شرح اموات 40 فیصد تک کمی ہوئی، دوا کے استعمال سے آکسیجن لگے مریضوں کی شرح اموات میں 20 سے 25 فیصد کمی ہوتی ہے۔ تجربات کی سربراہی آکسفورڈ یونیورسٹی کی ٹیم نے کی، برطانیہ کے ہسپتالوں میں داخل 2 ہزار کورونا کے مریضوں پر دوا کے استعمال کا جائزہ لیا گیا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق ڈیکسا میتھا زون کا استعمال وبا کے آغاز میں کیا جاتا تو 5 ہزار زندگیاں بچانے میں مدد ملتی، دوا کورونا کے صرف تشویشناک مریضوں پر مؤثر ہے، معتدل مریضوں پر مؤثر نہیں ہے۔

یہ دوا دمہ اور آرتھرائٹس کے علاوہ متعدد امراض کے علاج میں استعمال ہوتی ہے، برطانیہ میں دوا کی قیمت صرف پانچ پاؤنڈز (تقریباً ایک ہزار روپے) ہے، دوا 1960 سے دنیا میں زیر استعمال ہے۔ پروفیسر لینڈرے کا کہنا ہے کہ اگر مناسب ہو تو ہسپتالوں میں مریضوں کو یہ دوا دی جا سکتی ہے، تاہم لوگوں کو خود سے یہ دوا گھروں میں نہیں کھانی چاہیے۔

ڈیکسامیتھازون ان لوگوں کے لیے فائدہ مند نہیں جن میں کورونا وائرس کی علامات شدید نہیں ہیں اور انھیں سانس کی تکلیف بھی نہیں۔ ریکوری ٹرائل نامی یہ آزمائش مارچ کے مہینے سے جاری ہے۔ اس آزمائش میں ملیریا کی دوا ہائڈروکسی کلوروکوین بھی شامل تھی جسے بعد میں ان خدشات کے پیشِ نظر بند کر دیا گیا کہ یہ دل کے عوارض اور ہلاکتوں میں اضافے کا باعث ہے۔