مشرف کانام ای سی ایل سے نکالنے پر حکومتی اپیل خارج

اپ ڈیٹ 16 مارچ 2016 03:01pm

supremecourt_image

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے پرویزمشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقراررکھتے ہوئے حکومتی اپیل خارج کردی،چیف جسٹس کہتے ہیں کہ حکومت آزادانہ فیصلہ کرے، سپریم کورٹ کا شیلٹر لینے کی کوشش نہ کرے۔

چیف جسٹس انور ظہیرجمالی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالے جانے کیخلاف حکومتی اپیل پر سماعت کی۔سپریم کورٹ نے حکومتی اپیل خارج کرتے ہوئے مختصر فیصلہ سنایا جس کے تحت سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کو برقراررکھا گیااورواضح کیا کہ حکومت اور خصوصی عدالت پرویز مشرف کی حراست اورنقل و حرکت پر پابندی کے حوالے سے فیصلہ کرنے میں بااختیار ہیں۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ حکومت اور خصوصی عدالت کی راہ میں رکاوٹ نہیں.سماعت کے دوران اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے اپنے دلائل میں کہا کہ حکومت آٹھ اپریل دوہزار تیرہ کے عبوری عدالتی حکم کو ہی حتمی سمجھتی ہے۔عبوری حکم تین جولائی دوہزار تیرہ کے فیصلے میں ضم نہیں ہوا جس پرجسٹس ثاقب نثار نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا آپ ساری ذمہ داری عدالت پرڈالنا چاہتےہیں؟ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیے کہ حکومت آزادانہ فیصلہ کرے، سپریم کورٹ کا شیلٹر لینے کی کوشش نہ کرے۔

پرویز مشرف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پرویز مشرف صرف علاج کے لیے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں۔عدالت کا بلاوا آیاتووہ پیش ہونگے۔