مطمئن کریں کہ ایگزیکٹو کے اختیارات میں کیوں مداخلت کریں؟اسلام آبادہائیکورٹ
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی پر حکومتی کارروائی کیخلاف درخواست پر وزارت توانائی سے جواب طلب کرلیا،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ مطمئن کریں کہ ایگزیکٹو کے اختیارات میں کیوں مداخلت کریں؟۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے آئل کمپنی کی ایف آئی اے کے طلبی نوٹس کے درخواست پر سماعت کی۔
دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیئے کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پرانکوائری ایکٹ کے تحت کمیشن قائم نہیں کیا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ضروری نہیں کہ حکومت تحقیقات کیلئے انکوائری ایکٹ کے تحت کمیشن کی قائم کرے،حکومت کی کچھ ذمہ داریاں ہیں اور وہ عوام کو جوابدہ ہے،فیول سپلائی میں خلل ہے تو ایگزیکٹو کو انکوائری کا اختیار ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے مزیدریمارکس دیئے کہ مطمئن کریں کہ ایگزیکٹو کے اختیارات میں کیوں مداخلت کریں؟۔
عدالت نے وزارت توانائی، اوگرا، فیول کرائسز کمیٹی اور ایف آئی اے کو نوٹس جاری کر کے 25 جون تک جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد نوٹس جاری کئے ۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔