چاند کی رویت کا تنازع: 'اتنی جلدی کیا پڑی ہے کریڈٹ لینے کی؟'
پاکستان میں ماہِ رمضان المبارک اور شوال کے چاند پر تقریباً ہر سال اختلافات سامنے آتے ہیں۔ پہلے تو یہ اختلاف صرف مرکزی رویت ہلال کمیٹی اور پشاور کی مسجد قاسم علی خان کے درمیان تھا مگر جب سے وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے اپنے اس عہدے کا قلمدان سنبھالا ہے تو وہ بھی تیسرے فریق کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ اس سال بھی ماہِ شوال کے چاند پر مرکزی رویت ہلال کمیٹی اور وزارت سائنس کے درمیان خاصی گرما گرمی دیکھنے کو ملی کیونکہ فواد چوہدری ایک ٹویٹ کے ذریعے پہلے ہی اس بات کا اعلان کرچکے تھے کہ شوال کا 23 مئی کو نظر آجائے گا اور ملک بھر میں عیدالفطر 24 مئی کو منائی جائے گی۔ فواد چوہدری نے 2 سال قبل قمری کلینڈر کا اجراء اس لئے کیا تھا تاکہ علمائے کرام کے اختلافات کو ختم کیا جاسکے، ایسا تو نہ ہوسکا مگر وزیر سائنس کو خبروں میں آنے کی ایک اور وجہ مل گئی۔ فواد چوہدری نے رواں ماہ کی 15 تاریخ کو ایک ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ اس سال عیدالاضحیٰ 31 جولائی بروز جمعہ کو منائی جائے گی۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ میں یہ بھی لکھا کہ ذوالحج کا چاند 21 جولائی کو کراچی اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں دوربین کی مدد سے جبکہ کئی علاقوں میں آنکھ کی مدد سے بھی دیکھا جاسکے گا۔
ابھی وفاقی وزیر کے اس ٹویٹ کو ایک ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ انہوں نے وزارتِ مذہبی امور کا ایک نوٹفکیشن شیئر کرتے ہوئے ایک اور ٹویٹ کر ڈالی۔ انہوں نے اپنی اس ٹویٹ میں لکھا کہ وزارت سائنس نے اس سال کی عید الاضحیٰ کی تاریخ 31 جولائی بتائی تھی الحمدللہ آج رویت ہلال کمیٹی نے ایک بار پھر وزارت سائنس کی دی گئی عید الاضحیٰ کی تاریخ کو ہی من وعن تسلیم کیا، امید ہے جلد ہم قمری کلینڈر کو سرکاری طور پر ملک پر نافذ کرسکیں گے تاکہ یہ اختلاف ہمیشہ کیلئے ختم ہوسکے۔
وزیر سائنس کی جانب سے جو نوٹفکیشن ٹویٹ میں شیئر کیا گیا اس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ رویتِ ہلال کیمٹی کی میٹنگ میں کئے گئے فیصلے کے مطابق ذیقعد 1441 ہجری کا چاند نظر نہیں آیا لہذا منگل 23 جون کو پہلی ذیقعد ہوگی۔ اس نوٹیفیکیشن میں ذوالحج کے چاند یا عیدالاضحیٰ کی کوئی بات سرے سے کی ہی نہیں گئی تھی مگر فواد چوہدری نے یہاں عیدالاضحیٰ کا ذکر کرکے سوشل میڈیا صارفین کو تنقید کا موقع فراہم کردیا۔ ایک صارف نے وفاقی وزیر کی ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ 'وزیر موصوف جلدی میں کچھ غلط کرگئے ہیں۔ ذوالحج کا مہینہ ایک ماہ بعد شروع ہوگا، اتنی جلدی کیا پڑی ہے کریڈٹ لینے کی؟'
ایک صارف نے مشورہ دیا کہ چوہدری صاحب آپ مذہبی معاملات سے دور رہیں اور اپنی وزارت کا لوہا منوا کر کورونا ویکسین ایجاد کریں۔
ایک اور صارف نے لکھا کہ عید الاضحیٰ کا تعین تو ذی الحج کے چاند کی رویت سے ہوگا۔ رویت ہلال کمیٹی نے تو آج ذی القعدہ کے چاند کی عدم رویت کا اعلان کیا ہے۔
ایک اور صارف نے لکھا کہ چوہدری صاحب اب چاند پر کب جا رہے ہیں۔ انڈیا کا منہ بند کیا جائے چاند کا چکر لگا آئیں آپ۔
ایک اور صارف نے لکھا کہ محترم اپنی سائنس کو کورونا کے علاج ڈھونڈنے میں لگائیں جسکی اس وقت ملک کو سخت ضرورت ہے۔
طاہر مرسلین نامی صارف نے لکھا کہ جس دن حکومت آپ کے دیئے کیلنڈر کی عوام کو پابند کرے گی اسی دن سے ہر شہر میں الگ عید ہونا شروع ہو جائے گی، چاند دیکھنے کی سنت کو برقرار رکھنے میں برکت اور اتحاد ہے۔ عالیہ ملک نامی صارف نے لکھا کہ وزارت سائنس صرف چاند کی رویت سے متعلق بتانے کیلئے ہی ہے۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔