Aaj TV News

BR100 4,423 Increased By ▲ 3 (0.08%)
BR30 22,591 Decreased By ▼ -21 (-0.09%)
KSE100 42,420 Increased By ▲ 85 (0.2%)
KSE30 17,966 Increased By ▲ 22 (0.12%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 288,047 747
DEATHS 6,162 9

عالمی وباء کورونا وائرس کے پیش نظر سعودی حکومت نے رواں برس حج کو محدود رکھنے کا اعلان کردیا، اس سال سلطنت میں رہنے والے افراد ہی حج کی ادائیگی کریں گے۔ -22 جون کی شب کو سعودی وزارت حج و عمرہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 'دنیا کے 180 سے زائد ممالک میں کورونا وائرس کی وباء کے پھیلاؤ کے پیش نظر محدود تعداد میں سلطنت میں مقیم مختلف ممالک کے شہریوں کو حج کا موقع دیا جائے گا'۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ فیصلہ اس لئے کیا گیا ہے تاکہ حج محفوظ اور صحت مند ماحول میں ہو اور کورونا سے بچاؤ کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عازمین حج کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے سماجی فاصلہ برقرار رکھنا ضروری ہے اس لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں کورونا وائرس سے ایک لاکھ 61 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں جبکہ وہاں 1300 سے اموات بھی ریکارڈ ہوچکی ہیں۔ تاریخ میں اس سے قبل کب کب حج منسوخ ہوا؟ حج اسلام کا ایک ایسا فریضہ ہے جو پہلی مرتبہ 629 عیسوی (6 ہجری) میں حضور اکرم ﷺ کی قیادت میں ادا کیا گیا اور اس کے بعد سے یہ ہر سال ادا ہوتا ہے۔ بحیثیت مسلمان کوئی بھی شخص حج کی منسوخی سے متعلق سوچ بھی نہیں سکتا لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ تاریخ میں اب تک تقریباً 40 ایسے مواقع ہیں جب حج کی ادائیگی نہ ہوسکی۔ سنہ 865: السفاک کا حملہ سنہ 865 میں اسماعیل بن یوسف (السفاک) نے بغداد میں قائم عباسی سلطنت کے خلاف اعلانِ جنگ کیا اور مکہ میں عرفات کے پہاڑ پر حملہ کیا۔ السفاک کی فوج کے اس حملے میں وہاں موجود حج کیلئے آنے والے ہزاروں زائرین مارے گئے اور اس سال حج نہ ہوسکا۔ سنہ 930: قرامطہ کا حملہ سنہ 930 میں قرامطہ فرقے کے سربراہ ابو طاہر الجنابی نے مکہ پر ایک بھرپور حملہ کیا، اس حملے کو مکہ پر سب سے شدید حملوں میں سے ایک جانا جاتا ہے۔ اس دوران اتنی لوٹ مار اور قتل و غارت ہوئی کہ کئی سال تک حج نہ ہو سکا۔ سنہ 983: عباسی اور فاطمی خلافتوں میں جھگڑے حج صرف لڑائیوں اور جنگوں کی وجہ سے نہیں بلکہ کئی سال سیاست کے باعث بھی ہوا۔ سنہ 983 عیسوی میں عراق کی عباسی اور مصر کی فاطمی خلافتوں کے سربراہان کے درمیان سیاسی کشمکش کے باعث مسلمانوں کو حج کی ادائیگی کیلئے سفر کرنے نہ دیا گیا۔ اس کے بعد حج 991 میں ادا کیا گیا۔ بیماریوں اور وباؤں کی وجہ سے حج منسوخ سنہ 357 ہجری میں الماشری نامی بیماری کے باعث حج کی ادائیگی نہ ہوسکی، اس بیماری سے مکہ مکرمہ میں بڑی تعداد میں اموات ہوئیں۔ سنہ 1831 میں بھارت سے ایک وباء کا آغاز ہوا جس نے مکہ میں تقریباً تین چوتھائی زائرین کو ہلاک کردیا۔ یہ لوگ کئی ماہ کا خطرناک سفر کرکے حج کیلئے مکہ آئے تھے۔ سنہ 1837 سے لے کر 1858 تک، ان دو دہائیوں میں 3 مرتبہ حج منسوخ ہوا جس کی وجہ سے زائرین مکہ کی جانب سفر نہ کرسکے۔ سنہ 1846 میں مکہ میں ہیضے کی وبا سے تقریباً 15 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ یہ وبا مکہ میں سنہ 1850 تک پھیلتی رہی لیکن اس کے بعد بھی کبھی کبھار اس سے اموات ہوتی رہیں۔ رہزنی کا خوف اور حج کے بڑھتے ہوئے اخراجات سنہ 390 ہجری میں مصر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حج اخراجات میں بے پناہ اضافے کے باعث مسلمان فریضہ حج سے محروم رہے، اس کے علاوہ 430 ہجری میں عراق اور خراساں سے لے کر شام اور مصر کے لوگ حج پر نہ جاسکے تھے۔ سنہ 492 ہجری میں اسلامی دنیا میں جاری آپسی جنگوں کے باعث فریضۂ حج متاثر ہوا جبکہ 654 ہجری سے لے کر 658 ہجری تک حجاز کے علاوہ کسی اور ملک سے حاجی مکہ نہیں پہنچے۔ اس کے علاوہ 1213 ہجری میں فرانسیسی انقلاب کے دوران حج کے قافلوں کو تحفظ اور سلامتی کے باعث روک دیا گیا۔ کڑاکے کی سردی کے باعث حج روکا گیا سنہ 417 ہجری کو عراق میں شدید سردی اور سیلابوں کی وجہ سے زائرین مکہ کا سفر نہ کرسکے۔ اس طرح شدید سرد موسم کی وجہ سے حج کو منسوخ کرنا پڑا تھا۔ کسوہ پر حملہ سنہ 1344 ہجری میں خانہ کعبہ کے غلاف، کسوہ کو مصر سے سعودی عرب لے جانے والے قافلے پر حملہ ہوا اور اس وجہ سے مصر کا کوئی حاجی بھی خانہ کعبہ نہ جاسکا۔ واضح رہے کہ 1932 میں سعودی عرب کے وجود میں آنے کے بعد سے اب تک خانہ کعبہ میں حج کبھی نہیں رکا۔