کراچی طیارہ حادثے کے ذمہ دار پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولر تھے،عبوری رپورٹ
اسلام آباد:وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور نے پی آئی اے طیارہ حادثے کی عبوری رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کردی،جس میں کہا گیا ہے کہ کراچی طیارہ حادثے کے ذمہ دار پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولر تھے ،پائلٹ اور کو پائلٹ کورونا پر گفتگو کر رہے تھے،ان کے اہل خانہ وائرس سے متاثر تھے۔
قومی اسمبلی اجلاس میں وزیرہوابازی غلام سرور نے پی آئی اے طیارہ حادثے کی عبوری رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جس دن حادثہ پیش آیا اسی دن انکوائری کمیشن تشکیل دیا،72سالوں میں 12 طیارےحادثے کا شکارہوئے،آج تک کسی حادثےکی انکوائری یرپورٹ پبلک نہیں ہوئی۔
غلام سرور خان نے کہا کہ 22مئی کوکراچی میں پی آئی اےطیارہ حادثےکاشکارہوا،26مئی کوفرانسیسی ٹیم نے جائےحادثہ کا دورہ کیا،حادثےکے فوری بعد تحقیقات شروع کردی گئیں،انکوائری بورڈ میں پائلٹس کوبھی شامل کیا گیا،انٹرنیشنل پائلٹ ایسوسی ایشن کوخط لکھا گیا،اے320کےسینئرترن پائلٹ اور ٹیکنیشن کی معاونت طلب کی۔
وزیرہوابازی نے مزید کہا کہ حادثے کی آزاد،غیرجانبداراورشفاف انکوائری ہورہی ہے،حادثےمیں 29 گھروں کو نقصان پہنچا،متاثرہ گھروں کےمالکان کی معالی معاونت کی جائے گی،متاثرین کو متبادل رہائش فراہم کی گئی ،90شہداءکےورثاءکوامدادی رقوم فراہم کردی گئی ،گھرمیں شہیدہونےوالی ایک خاتون کےورثا ءکوامدادی رقم دی گئی ،حادثےکی شفاف انکوائری سے ورثاءکےدکھ کاکچھ مداوا ہوسکےگا۔
غلام سرور خان نے کہا کہ وائس ریکارڈرکی رپورٹ کو انکوائری کا حصہ بنایاجائےگا،طیارہ پروازکیلئےمکمل طور پر فٹ تھا،کیپٹن اورمعاون پائلٹ تجربہ کار تھے،پائلٹ نےطیارےمیں کسی تکنیکی خرابی کی نشاندہی نہیں کی،کنٹرولرنے3بارپائلٹ کی توجہ رفتارکی جانب مبزول کرائی،پائلٹ نےکنٹرولرکی ہدایات کو نظر انداز کیا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ رن وےسے10نارٹیکل میل کےفاصلےپرلینڈنگ گیئرکھولےگئے،5نارٹیکل میل کےفاصلےپرلینڈنگ گیئربندکردیئےگئے،جہازلینڈنگ گیئرکھولےبغیر4500فٹ پرلینڈکرایاگیا،جہاز کےانجن3بار رن وے سے ٹکرائے،رن وے پر ٹکرانےسےانجن نقصان پہنچا۔
وزیرہوابازی غلام سرور خان نے مزید کہا کہ پائلٹ نے اس وقت کنٹرول ٹاور سے ہدایات نہیں لیں ،کنٹرول ٹاور سے بھی کوئی ہدایات فراہم نہیں کی گئیں،پائلٹ کو جس بلندی اوررفتارکاکہاگیاوہ مینٹین نہ کرسکا۔
غلام سرور کا کہنا تھا کہ حادثےمیں محفوظ رہنےوالے2مسافروں سےمیری ملاقات ہوئی،پائلٹ اور کنٹرولرنےمروجہ طریقہ کارپرعمل نہیں کیا،پائلٹ اورکنٹرولردونوں نےغفلت برتی،میں نے خود طیارے کےوائس ریکارڈرکی گفتگوسنی،پائلٹ اورکوپائلٹ کے درمیان تمام گفتگوکوروناپرہورہی تھی،لینڈنگ کے دوران دونوں پائلٹس فوکس نہیں تھے۔
وفاقی وزیر نے مزیدکہا کہ پائلٹ اورکوپائلٹ کےاہلخانہ کوروناسےمتاثرہوچکےتھے،پائلٹ آخری لمحات میں جہازآٹوسےمینول لینڈنگ پرلایا،پائلٹ کےمنہ سے آخری الفاظ یا اللہ خیر" نکلے،ایئربلیواوربوجھا ایئرحادثےکی تحقیقات بھی جاری ہیں،دنوں حادثات کی رپورٹ جلد پبلک کی جائیں گی،ایئربلیوحادثہ جہازمیں تکنیکی خرابی کےباعث پیش آیا،بوجھاایئرحادثہ بھی پائلٹس کی غلطی کے باعث پیش آیا۔
غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ پی آئی اے کے ملازمین کی ڈگری چیک کرانے کا کہہ چکی ہے،پی آئی اے کے 4پائلٹس کی ڈگریاں جعلی نکلیں،مختلف اداروں میں جعلی ڈگری والے بیٹھےہیں،ادارےمیں بھرتیاں سیاسی بنیاد پر ہوتی رہیں،سیاسی بنیادوں پربھرتی پائلٹ کئی جانوں کیلئےخطرہ بنتاہے۔
وزیرہوابازی نے کہا کہ پاکستان میں860پائلٹس موجود ہیں،فروری2019میں پائلٹس کیخلاف انکوائری کی گئی،انکوائری کےمطابق262پائلٹس نےپیسےدےکرامتحان پاس کیا،انتہائی افسوس سےکہناپڑتا ہے کہ40فیصد پائلٹس جعلی ڈگری یافتہ ہیں،9پائلٹس نےعدالت میں اپنی غلطی تسلیم کی،اس معاملےپر کوئی سیاست اور رعایت نہیں ہوگی،یہ قومی سلامتی کامعاملہ ہے،اس پرسیاست نہیں ہونی چاہیئے۔
وفاقی وزیرغلام سرور نے مزید کہا کہ سابقہ ادوار میں پی آئی اےکی نجکاری کی بات ہوئی،پی آئی اےکی ری اسٹرکچرنگ کافیصلہ کیاگیا ہے ،انکوائریز کی مکمل رپورٹ ایوان میں پیش کی جائےگی۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔