قومی اسمبلی میں حرمت حضرت فاطمہ پر متفقہ قرارداد منظور

گستاخی کرنیوالے مذہبی سکالر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیاگیا۔
شائع 24 جون 2020 06:44pm
فائل فوٹو
فائل فوٹو

قومی اسمبلی میں حکومت و اپوزیشن ارکان نےحرمت حضرت فاطمہ پر متفقہ طورپر قرارداد منظور کرلی۔گستاخی کرنیوالےمذہبی سکالر کےخلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا گیا۔

قومی اسمبلی نے حرمت حضرت فاطمتہ الزہرا کے حوالے سے قرارداد متفقہ منظورکرلی۔حکومت و اپوزیشن کی جانب سے متفقہ قرارداد پیپلز پارٹی کی رکن شگفتہ جمانی نے پیش کی۔

پیپلز پارٹی کی رکن شگفتہ جمانی کا کہنا تھا وزیر پارلیمانی اموراوروزیر مذہبی امور سمیت حکومت و اپوزیشن کی شکر گزار ہوں جنہوں نے بھرپور حمایت کی یہ معزز ایوان حضرت فاطمتہ الزہرا کی شان میں سلام پیش کرتا ہے، ان کی شان میں احادیث نبوی اور آیات قرآنی ہیں۔

حضرت فاطمہ کے حوالے سے ایک مذہبی سکالر نے سوشل میڈیا پر توہین کی ہے جس کی یہ ایوان نہ صرف مذمت کرتا ہے بلکہ آئین پاکستان اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے۔حضور اکرم خاتم النبیین، اہلبیت علیہ السّلام، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور بزرگان کا احترام لازم ہے۔

ن لیگ کے رکن قومی اسمبلی سید عمران علی شاہ کا کہنا تھا کہ سیدہ کی حرمت پر ہماری جان بھی قربان۔اشرف جلالی کے خلاف کارروائی کی جائے۔غلام محمد لالی نے اسپیکر سے رولنگ کا مطالبہ کیا جبکہ چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ آل رسول کی حرمت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔

قرار داد ایوان میں پیش کی گئی تو اسے متفقہ طورپرمنظور کرلیا گیا۔قرارداد پیش کرنے کےلئے قومی اسمبلی کے قواعد معطل کئے گئے۔