'پارلیمنٹ میں عبوری رپورٹ پیش کی گئی،ذمہ داروں کیخلاف ایکشن ہوگا'

22 مئی کو حادثے کے شکار پی آئی اے طیارے کی رپورٹ پر وزیر ہوا بازی غلام سرورخان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی۔
اپ ڈیٹ 24 جون 2020 10:55pm
وفاقی وزیر غلام سرور خان- فائل فوٹو
وفاقی وزیر غلام سرور خان- فائل فوٹو

وزیر ہوا بازی غلام سرورخان کا کہنا تھا کہ انکوائری میں جو بھی ذمہ دارٹھہرے گا اس کےخلاف ایکشن ہوگا، انویسٹی گیشن کےلئے آزاد تحقیقاتی بورڈ بنایا ہے۔

22 مئی کو حادثے کے شکار پی آئی اے طیارے کی رپورٹ پر وزیر ہوا بازی غلام سرورخان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں عبوری رپورٹ پیش کی گئی،انکوائری کےلئے جو بورڈ تشکیل دیا وہ آزاد تحقیقاتی بورڈ ہے جس میں 2 پائلٹ ایئر بلیو کے کاک پٹ کے بھی انکوائری ٹیم میں شامل ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم میں ڈاکٹرز بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طیارہ آن ایئر ہوا 7 مئی کو اور پھر طیارے نے 22 مئی تک 6 کامیاب پروازیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ جس دن حادثہ پیش آیا رن وے سے دس میل کے فاصلے پر جہاز کو 2500 فٹ کی بلندی پر ہونا چاہیے تھا لیکن جہاز 7 ہزار 220 فٹ کی بلندی پرتھا۔پائلٹ کو کہا گیا کہ لیڈنگ پوزیشن میں نہ آئیں پائلٹ نے کنٹرولر کی ہدایات کو یکسر نظراندازکیا۔

وفاقی وزیر ہوا بازی نے کہا کہ ڈیٹا انٹری میں تمام ایکشن ریکارڈ ہوتے ہیں۔ 10ناٹیکل مائلز پر جہاز کے لیڈنگ گیئر کھولے گئے اور 5 ناٹیکل مائلز پر جہاز کے لینڈنگ گیئر بند کر دیے گئے۔جہاز جب لینڈنگ پر آئے تو 1500 فٹ سے 3 ہزار فٹ پر ٹچ ڈاؤن کرنا چاہیےا تھا لیکن جہاز نے 3 ہزار سے 4 ہزار فٹ پر لینڈنگ گیئر کے بغیر ٹچ ڈاؤن کیا جہاز رن وے پر رگڑے کھاتا رہا۔جہاز کے دونوں انجن ڈیمیج ہو چکے تھے پاور نہیں تھی۔مروجہ طریقہ کار دونوں پائلٹ نے اختیار نہیں کیا۔

غلام سرور خان نے کہا کہ پائلٹ نے کسی تکنیکی خرابی کی نشاندہی نہیں کی۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ آزادانہ تحقیقاتی بورڈ ہوگا۔میں نے خود انویسٹی گیشن بورڈ سے علیحدگی میں بات کی کہ آپ فری فیئر انویسٹی گیشن کریں میں آپ کے ساتھ ہوں۔

وزیر ہوا بازی نے کہا کہ جب فائنل انکوائری رپورٹ آئے گی جو جو ذمہ دار ہوگا انکے خلاف ایکشن ہوگا۔فائنڈنگ اس پر کسی کی نہیں انکوائری ابھی بھی جاری ہے، انکوائری میں جو بھی ذمہ دار ٹھہرے گا ایکشن ہوگا۔