’ایف آئی اے کو کچھ کرنا نہیں آتا اور اس نے کسی معاملے پر نتائج نہیں دیئے‘

اسلام آباد:چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ایف آئی اے...
شائع 26 جون 2020 12:19pm

اسلام آباد:چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ایف آئی اے کو کچھ کرنا نہیں آتا اوراس نے کسی معاملے پر نتائج نہیں دیئے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے توہین آمیزویڈیوازخودنوٹس کیس کی سماعت کی،اٹارنی جنرل اور ویڈیو بیان دینے والے مولانا افتخارالدین مرزا کی وکیل پیش ہوئیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب!یہ سب کیا ہورہا ہے؟جس پر اٹارنی جنرل نے ایف آئی اے کی جانب سے کارروائی شروع ہونے کا مؤقف اپنایا۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ایف آئی اے کے پاس ججز کے دیگر معاملات بھی ہیں،ایف آئی اے کچھ نہیں کررہا، ایف آئی اے نے کسی معاملے پر آج تک نتائج نہیں دیئے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ویڈیو میں ملک کے ادارے کو دھمکی دی گئی،جج کا نام تضحیک آمیز انداز سے لیا گیا،ریاستی مشینری نے ایکشن تاخیر سے کیوں لیا؟ ۔

مولانا افتخار الدین مرزا کی وکیل نے بتایا کہ ان کے مؤکل خود عدالت آئے لیکن پولیس نے حراست میں لے لیا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پولیس نے کیوں پکڑ لیا،مولانا صاحب کو بلالیں۔

سپریم کورٹ نے توہین آمیزویڈیوازخودنوٹس کیس میں ڈی جی ایف آئی اے کوطلب کرلیا۔
عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے اور مولانا افتخار الدین مرزا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 2 جولائی تک ملتوی کردی۔

آغا افتخار الدین مرزا نے بھی ایف آئی اے کو بیان ریکارڈ کرانے کی یقین دہانی کرا دی۔