سابق امیر جماعت اسلامی سید منور حسن انتقال کرگئے

کراچی :سابق امیرجماعت اسلامی سیدمنورحسن انتقال کرگئے، منورحسن...
شائع 26 جون 2020 02:02pm

کراچی :سابق امیرجماعت اسلامی سیدمنورحسن انتقال کرگئے، منورحسن کچھ عرصےسےعلیل اوراسپتال میں زیرعلاج تھے۔

پاکستانی سیاست میں شرافت، ایمانداری اور اصول پسندی کا ایک اور روشن باب بند ہوگیا، سابق امیر جماعت اسلامی سید منور حسن طویل علالت کے باعث کراچی کے نجی اسپتال میں انتقال کرگئے۔

بائیں بازو کی طلبہ تنظیم سے سیاسی زندگی کا آغاز کرنے والے منور حسن نے ہر سیاسی عہدہ بذریعہ انتخاب حاصل کیا،سید منور حسن دہلی میں 5 اگست 1941 کو پیدا ہوئے،طلبہ سیاست کا آغاز بائیں بازو کی طلبہ تنظیم نیشنل اسٹوڈیٹ فیڈریشن سے کیا اور 1959 میں این ایس ایف کے صدر منتخب ہوئے۔

سید منور حسن ابتدا ہی سے علم و ادب سے شغف رکھتے تھے،یہی وجہ تھی کہ وہ اسلامک ریسرچ اکیڈمی سے وابسطہ رہے اور ان کی زیر نگرانی 70 سے زائد کتب شائع ہوئیں۔

منور حسین کو 1964 میں اسلامی جمعت طلبہ پاکستان کا ناظم اعلی منتخب کیا گیا اور وہ 15 برس کے دوران 3 بار اس عہدے پر فائر کئے گئے،1977 میں عام انتخابات میں حصہ لینے پر منور حسن سب سے زیادہ ووٹ لینے والے امیدار کے طور پر کامیاب ہوئے۔

انیس سو بانوے میں جماعت کے سیکریٹری مقرر ہونے والے منور حسن2009 میں امیر جماعت منتخب ہوئے،یہ وہ وقت تھا جب ملک میں دہشتگردی کیخلاف جنگ عروج پر تھی،جس پر منور حسن اپنا الگ موقف رکھتے تھے اور بلاخوف اس کا اظہار بھی کرتے تھے۔

منور حسن کے متعلق یہ تاثرعام تھا کہ وہ مذہبی جماعتوں کے انتخابی اتحاد متحدہ مجلس عمل کے مخالف ہیں تاہم انہوں نے ہمیشہ اس تاثر کی نفی کی۔

سید منور حسن پروفیسر غفور احمد اور نعمت اللہ خان کی طرح ان سیاسی رہنماؤں میں شامل ہیں،جو تمام عمر اصولی سیاست کے راہ پر گامزن رہے،یہی وجہ ہے کہ حامی اور مخالفین ان کا یکساں احترام کرتے ہیں۔