Aaj TV News

BR100 4,439 Increased By ▲ 19 (0.44%)
BR30 22,677 Increased By ▲ 65 (0.29%)
KSE100 42,505 Increased By ▲ 170 (0.4%)
KSE30 18,046 Increased By ▲ 102 (0.57%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 288,047 747
DEATHS 6,162 9

قومی اسمبلی میں مختلف وزارتوں اورمحکموں کے 42کھرب 53ارب 96کروڑ 90لاکھ روپے کے190مطالبات زر پیش کردیے گئے۔96مطالبات جن کی رقم 14کھرب 89 ارب 48کروڑبنتی ہے پر اپوزیشن نے کوئی کٹوتی کی تحریک نہیں دی تھی۔انہیں پہلے ہی مرحلے میں منظور کرلیا گیا.کٹوتی کی تحاریک والے 94مطالبات زر میں سے کابینہ ڈویژن کے 34مطالبات زر بھی منظور کرلئے گئے۔

قومی اسمبلی اجلاس میں 190مطالبات زر کی منظوری کا عمل جاری ہے جس کی کل رقم 42کھرب 53ارب 96کروڑ اور 90لاکھ روپے بنتی ہے۔مطالبات زر وفاقی وزیر حماد اظہر پیش کررہے ہیں۔

اسمبلی میں وقفے سے پہلے وہ 96مطالبات زر منظور کئے گئے جن پر اپوزیشن نے کوئی کٹوتی کی تحاریک نہیں دی تھیں۔ ان کی رقم 14کھرب 89ارب 48کروڑ 4لاکھ اور27ہزار بنتی ہے۔وقفے کے بعد آٹھ وزارتوں اورمحکموں پر اپوزیشن کی طرف سے دی گئی کٹوتی کی تحاریک باری باری پیش کی جارہی ہیں جن پر ووٹنگ کی بجائے بحث کے بعد منظوری دی جارہی ہے۔اب تک کابینہ ڈویژن کے 34مطالبات زر کی منظوری دے دی گئی ہے اور اپوزیشن کی کٹوتی کی تحاریک مسترد کی گئی ہیں۔

مسلم لیگ ن کے احسن اقبال نے کابینہ ڈویژن کو دی جانے والی رقم پر اعتراض اٹھایا اور کہا یہ وزیراعظم تو 18رکنی کابینہ سے ملک چلانے کی باتیں کرتا تھا جو اب ملک کے لئے گورباچوف بن چکا ہے۔حکومت نے جہاز اور شوگر انڈسٹری کے چند لوگوں کو سامنے رکھ پوری صنعت کو رسک پر ڈال دیا ہے۔

پیپلزپارٹی کی رکن شاہدہ رحمانی ایوان میں آبدیدہ ہوگئیں ۔ کہاکہ ان کے والدین کورونا کے باعث وینیٹی لیٹر پرہیں اس کا ذمہ دارعمران خان ہے اگرانہیں کچھ ہوا تو مقدمہ عمران خان پردرج کراؤں گا۔

اجلاس میں جے یوآئی کے مولانا اسعد محمود نے کٹوتی تحاریک اکٹھی کرنے اور ووٹنگ نہ کرنے پر اعتراض اٹھایا اورکہا ایم ایم اے کے ارکان بجٹ میں پورا حصہ لینا چاہتے ہیں۔

مفتی عبدالشکور نے مسلم لیگ ن اورپی پی پی پر اشارتاً الزام لگایا کہ انہوں نے این آراو لینے کے لئے بجٹ کا طریقہ کار پس پشت ڈال دیا۔

قومی اسمبلی اجلاس کے دوران سابق امیرجماعت اسلامی پاکستان سید منورحسن کی وفات کی خبر آئی جس پرایوان میں فاتحہ کی گئی۔