سید منور حسن کی نمازجنازہ آج بعد نماز ظہر ادا کی جائے گی

کراچی : سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن کی نمازجنازہ...
شائع 27 جون 2020 09:57am
فائل فوٹو
فائل فوٹو

کراچی : سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن کی نمازجنازہ آج بعد نماز ظہرعید گاہ گراؤنڈ ناظم آباد میں ادا کی جائے گی۔

جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر سید منور حسن جو گزشتہ روز نجی اسپتال میں طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے تھے ان کی نماز جنازہ آج بعد نماز عید گاہ گراؤنڈ ناظم آباد میں ادا کی جائے گی۔

وہ گزشتہ کئی برسوں سے پارکنسن کے مرض میں مبتلا تھے، ان کی طبیعت میں اتار چڑھاؤ کافی عرصے سے جاری تھا لیکن تین ہفتے قبل ان کو اچانک طبیعت بگڑنے پر مقامی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا اور ایک ہفتے سے وہ انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیر علاج تھے، چند دن قبل ڈاکٹروں نے ان کی سانس کی تکلیف کی وجہ سے انھیں وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا تھا۔

سید منور حسن کے انتقال پر ملک کی دینی سیاسی اور سماجی تنظیموں کے عہدیداران نے اپنے گہرے اور رنج کا اظہار کیا ہے، رہنماوں نے ان کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے ان کی مغفرت اور درجات کی بلندی کیلئے دعا کی ہے۔

سید منور حسن نے پاکستان میں بننے والے سیاسی اتحادوں میں کلیدی کردارادا کیا، منور حسن 5 اگست 1941ء کو دہلی میں پیدا ہوئے تھے، قیام پاکستان کے بعد ان کے خاندان نے کراچی میں سکونت اختیار کی تھی۔ 1963ء میں سماجیات میں اور 1966ء میں اسلامی اسٹڈیز میں ماسٹر کی ڈگری جامعہ کراچی سے حاصل کی۔

منور حسن نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے بھی وابستہ رہے۔ 1960ء میں اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ ہوگئے۔ 1963ء میں اسلامک ریسرچ اکیڈمک سے وابستہ ہوئے اور ریسرچ اسسٹنٹ کے طور پر خدمات انجام دیں۔

سید منور حسن جامعہ کراچی کے میگزین The Criterion and The Universal Message میں منیجنگ ایڈیٹر بھی رہے۔ 1967ء میں جماعت اسلامی کے ممبر بن گئے۔1967 میں ہی منور حسن اسسٹنٹ سیکریٹری اور ڈپٹی امیرجماعت اسلامی کراچی بھی رہے۔

منور حسن مختلف سیاسی اتحاد میں بھی فعال رہے۔ پاکستان نیشنل الائنس اور یونائیٹڈ ڈیموکریٹڈ میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔ سال 1977ء میں کراچی سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

انہیں ملک بھر میں قومی اسمبلی کی نشست پر سب سے زیادہ ووٹ لینے کا اعزاز بھی حاصل رہا۔ 1992-93 میں اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی کے منصب پر فائز رہے۔

2009ء میں وہ پہلی مرتبہ امیر جماعت اسلامی پاکستان منتخب ہوئے، سوگواران میں بیوی، بیٹا اور بیٹی شامل ہیں۔