کٹھ پتلی کو وزیراعظم ہاوس سے باہر پھینکنا پڑے گا، بلاول
پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کٹھ پتلی کو وزیراعظم ہاؤس سے باہر پھینکنا پڑے گا،کورونا سے شرح اموات بڑھتی جارہی ہے۔ عمران خان نے اس ایمنسٹی اسکیم کا خود فائدہ اٹھایا، آج تک علیمہ کی کرپشن کا جواب نہیں دیا گیا،کوئی نہیں بتا رہا کہ سلائی مشین بیچ کر نیو یارک میں کیسے گھر بنالیا۔ پریس کانفرنس میں بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ کورونا کے پھیلاؤ میں کمی کیلئے حکومت نے کوئی قدم نہیں اٹھایا، کورونا مریضوں کے مسیحاؤں کا بھی رسک الاؤنس ہونا چاہئے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ اوپی ڈیز اور دیگر جگہوں پر کام کرنے والوں کا بھی الاؤنس ہونا چاہئے،ملک نے اپنی تاریخ میں کبھی اس قسم کے چینلجز کا سامنا نہیں کیا۔ پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ مون سون اور سیلاب کی بھی پیشگوئی کی جارہی ہے،پی ٹی آئی حکومت ہر بحران میں اضافہ کردیتی ہے،ہم ٹڈی دل کو ابتدائی دنوں میں ختم کرسکتے تھے۔ بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے جہاز بھی نہیں بھیجے،ہر جگہ حکومت مسائل میں اضافہ کردیتی ہے، پیٹرول کی قیمت بڑھا کر ڈاکا مارا گیا۔ بلاول نے مزید کہا کہ بجٹ میں کہا جاتا ہے کہ عوام کو ریلیف پہنچا رہے ہیں، لیکن بجٹ پاس ہونے سے پہلے بجائئے اوگرا کے وفاقی حکومت نے خود قیمتیں بڑھادیں۔ عوام اپنی جیب سے آئل کمپنیز کےنقصان پورا کررہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ مافیاز نہیں بلکہ پی ٹی آئی حکومت کے فرنٹ مین ہیں، ایک مہنگائی کا طوفان کھڑا ہوگا، حکومت غریبوں کا نام لیکر امیروں کو فائدہ پہنچارہی ہے،ہمارا وزیراعظم بہت بہادر ہے، وہ صرف ہماری غیر موجودگی میں ہی تقریر کرسکتا ہے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اگر ہمت ہے تو میرے سامنے پارلیمان میں آئے اور بحث کریں، ڈیبیٹ کا یہ مطلب نہیں کہ تقریر کر کے بھاگ جاؤ،ڈیبیٹ کا مطلب ہے کہ اپوزیشن کی بات بھی سنیں، پارلیمنٹری رہنماؤں کی ہی ڈیبیٹ کرالیں، میں تو ٹی وی پر بھی ڈیبیٹ کیلئے تیار ہوں۔ بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ ہمت ہے تو سامنے آئیں اور مقابلہ کریں،خان صاحب کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ پاکستان کا وزیراعظم بننے کیلئے تیار نہیںِ،وہ پی ٹی آئی کے وزیراعظم ہیں، ہمیں پاکستان کا وزیراعظم چاہئے، ٹڈی دل کیخلاف کوئی قدم نہ اٹھایا تو پاکستان کی معیشت بیٹھ جائے گی،لیکن وزیراعظم صرف ٹوئٹر اور فیس بک کا وزیراعظم ہے،انہیں احساس ہی نہیں کہ یہ کتنا سنجیدہ معاملہ ہے۔ بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ اسامہ بن لادن کو شہید کہنے پر ابھی تک معافی نہیں مانگی، ایوان میں کہا تھا کہ اسامہ بن لادن شہید ہے، نائین الیون کے بعد پاکستان میں تباہی مچانے کے پیچھے کون تھا، گر اسامہ شہید ہے تو آپکا موقف اے پی ایس اسکول سانحہ، ضرب عضب پر کیا ہے، وزیراعظم کے بیان سے پورے ملک کی بدنامی ہورہی ہے۔ پی پی چیئرمین نے مزید کہا کہ وزیراعظم تو محترمہ کو شہید ماننے کیلئے تیار نہیں تو وہ کیسے اسامہ کو شہید کہہ سکتا ہے،حیران ہوں کہ وزیراعظم کہتے ہیں انکی سب سے بڑی کامیابی فارن پالیسی ہے،ا س وزیراعظم کے ناک کے نیچے مودی نے مقبوضہ کشمیر پر حملہ کیا، خارجہ پالیسی کتنی کامیاب ہے یہ پوچھو کشمیر کے عوام سے، وزیراعظم کہتے تھے مودی الیکٹ ہوا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔
بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ وزیراعظم جب بھی منہ کھولتے ہیں تو ایک مزاق بن جاتا ہے، وزیراعظم ایک محنت کش، ایک ڈاکٹر اور ایک نرس سے نہیں ملے،بجٹ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کی ترجیحات غریب نہیں بلکہ امیر ہیں،یہ ایک پی ٹی آئی ایم ایف بجٹ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ون یونٹ کی طرف واپس جاتے ہیں تو یہ پیغام ہوگا کہ ہم عوام کو خودمختاری دینے کیلئے تیار نہیں ہیں،وزیراعظم کی آمرانا سوچ ہے، خورشید شاہ جیل میں ہے لیکن کوئی ریفرنس نہیں بنا۔ بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگ ریفرنس ہوتے ہوئے بھی ضمانت کے بغیر گھوم رہے ہیں، پی ٹی آئی حکومت آصف زرداری کو قتل کرنا چاہتی ہے،پ اکستان جانتا ہے کہ زرداری کی طبعیت بہتر نہیں،نیب چاہتی کہ زرداری پیش ہوں تاکہ انہیں کورونا ہوجائے، ہمیں زرداری کی جگہ پر وکیل کو پیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ لوگ بزرگوں اور خواتین کا بھی لحاظ نہیں کرتے، ہم 73 کے آئین پر کسی صورت سمجھوتا نہیں کریں گے، ہم اس کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ حکومت کو مسلسل ٹف ٹائم دیتے رہیں گے، ہم کوئی این آر او نہیں چاہتے، ہمارے خلاف کیسز کا طوفان کھڑا کردیا، لیکن ہم ہر کیس میں باعزت بری ہوئے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ تاریخ میں اتنے این آر اوز نہیں دیئے گئے جتنے عمران خان نے دیئے، پہلا این آر او علیمہ خان کو دیا گیا،آج تک علیمہ کی کرپشن کا جواب نہیں دیا گیا،کوئی نہیں بتا رہا کہ سلائی مشین بیچ کر نیو یارک میں کیسے گھر بنالیا، کہتے تھے ایمنسٹی اسکیم چوروں کیلئے ہے، مشرف کی 2002کے این آر او کے بینیفشری خود عمران خان ہیں، عمران خان نے اس ایمنسٹی اسکیم کا خود فائدہ اٹھایا۔












اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔