Aaj TV News

COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 287,300 626
DEATHS 6,153 14

پاکستان کو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا سب سے بڑا ملک سمجھا جاتا تھا، لیکن اب یہ حقیقت بدل چکی ہے۔ پاکستان کی آبادی میں اضافہ اتنا تیز رفتار ہے کہ جنوبی ایشیا کی یہ ریاست اب دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن چکی ہے۔

یہ بات بہت کم پاکستانیوں کو معلوم ہوگی کہ گزشتہ سات دہائیوں کے دوران ان کے ملک کی آبادی ناقابل یقین حد تک تیز رفتار اضافے سے تقریباً چھ گنا ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے پاپولیشن ڈویژن کے اعداد و شمار کے مطابق قیام پاکستان کے تین سال بعد 1950ء کے وسط میں پاکستان کی مجموعی آبادی 37.54 ملین یا پونے چار کروڑ سے کچھ ہی زیادہ تھی۔

لیکن بیسویں صدی کے وسط سے لے کر اکیسویں صدی کے پہلے بیس سال تک کے دوران پاکستان کی آبادی میں اضافہ اتنی تیزی سے ہوا کہ اب اس بات کو بھی عشرے ہو گئے ہیں کہ ماہرین آبادی میں اس اضافے کے لیے "ٹائم بم" کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ آبادی سے متعلقہ امور کے ماہرین کے مطابق یہ "پاپولیشن بم" آج بھی ٹک ٹک کر رہا ہے اور ملکی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے۔ ماہرین اس رکاوٹ کی وضاحت یوں کرتے ہیں کہ پاکستان میں سماجی ترقی، قومی وسائل اور اوسط فی کس آمدنی میں اضافہ اس رفتار سے نہیں ہو رہا، جس رفتار سے آبادی بڑھتی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے آبادی سے متعلقہ امور کے شعبے کے گزشتہ برس اگست میں سال رواں کے لیے لگائے گئے اندازوں کے مطابق آج سے دس روز پہلے، یعنی سال رواں کی دوسری ششماہی شروع ہونے تک پاکستان کی مجموعی آبادی یقینی طور پر تقریباً 220.9 ملین یا 22 کروڑ 10 لاکھ کے قریب ہو جانا تھی۔ اس کا مطلب ہے جولائی 1950 سے لے کر جولائی 2020 تک ملکی آبادی میں تقریباً چھ گنا اضافہ۔

یہ اسی "پالولیشن بم" کا نتیجہ ہے کہ پہلے اگر پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا سب سے بڑا ملک تھا تو آج مزید ایک درجہ اوپر آ کر یہ ملک دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے۔ اس وقت دنیا کی مجموعی آبادی 7.8 بلین کے قریب ہے اور عالمی سطح پر سالانہ شرح پیدائش دو فیصد سے زیادہ۔ خود اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں سالانہ شرح پیدائش 2.8 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ اس وقت دنیا میں صرف چار ممالک ایسے ہیں، جن کی آبادی پاکستان سے زیادہ ہے۔ پہلے سے چوتھے نمبر تک کے یہ چار ممالک چین، بھارت، امریکا اور انڈونیشیا ہیں۔ پاکستان برازیل کی جگہ اب پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے۔ برازیل اب چھٹے نمبر پر ہے۔

ہر منٹ مزید گیارہ پاکستانیوں کا اضافہ

عالمی آبادی اور اس میں تبدیلیوں پر نگاہ رکھنے والی ایک غیر سرکاری بین الاقوامی ویب سائٹ کنٹری میٹرز ڈاٹ انفو کی ڈیٹا بیس کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برس 60 لاکھ 50 ہزار زندہ بچے پیدا ہوئے۔ یہ تعداد تقریباً ساڑھے سولہ ہزار روزانہ یا تقریباً سات سو فی گھنٹہ بنتی ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ 2019ء میں پاکستان میں اوسطاً ہر ایک منٹ میں 11 زندہ بچے پیدا ہوئے، یعنی تقریباً ہر پانچ سیکنڈ بعد ملکی آبادی میں ایک شہری کا اضافہ۔

پاکستانی وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بھی حال ہی میں میڈیا سے بات چیت میں اعتراف کیا تھا کہ ملکی آبادی میں اضافے کی شرح دنیا کے بہت سے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ ڈاکٹر مرزا کے مطابق اصل مسئلہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانا ہے کیونکہ عموماً زچہ اور بچہ دونوں ہی کی زندگی کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق ہر سال نو ملین پاکستانی خواتین زچگی کے عمل سے گزرتی ہیں، لیکن ان میں سے تقریباً چار ملین ایسی ہوتی ہیں، جو اپنی خواہش کے برعکس حاملہ ہوئی ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر مرزا کے مطابق موجودہ حکومت آبادی میں بہت تیز اضافے کے خلاف ایک آٹھ نکاتی پروگرام پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔

فیملی پلاننگ کی غیر تسلی بخش صورت حال

اسلام آباد میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے فیملی پلاننگ شعبے کی سابقہ سربراہ اور اب اپنا نجی کلینک چلانے والی سیدہ نگہت گیلانی کے مطابق، ''حکومت کو پختہ ارادے کے ساتھ ملک میں فیملی پلاننگ کی عملی صورت حال بہتر بنانے پر کام کرنا چاہیے۔ ملک میں فیملی پلاننگ کے طریقوں پر بھی تحقیق کی ضرورت ہے۔ ہر مانع حمل طریقہ ہر خاتون کے لیے طبی طور پر یکساں قابل عمل نہیں ہوتا۔‘‘