جعلی لائسنس کا اجراء:افسران کیخلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا حکم

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے جعلی لائسنس ہولڈر پائلٹس کیخلاف...
شائع 21 جولائ 2020 03:59pm

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے جعلی لائسنس ہولڈر پائلٹس کیخلاف کارروئی مکمل کرنے اوراور لائسنس کے اجرا ءمیں ملوث افسران کیخلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5رکنی بینچ نے کورونا از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ عدالت میں سماجی فاصلے کوبرقرار رکھا جائے،این ڈی ایم اے نے ابھی تک اہم دستاویزجمع نہیں کرائیں، الحفیظ کمپنی کی مشینری کوامپورٹ کی اجازت دینے کی دستاویزکہاں ہیں، 3بار حکم دینے کے باوجود دستاویزکیوں نہیں دیئے گئے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ جہاز چارٹرڈ کرنے اور اس کی ادائیگیوں کی تفصیلات کہاں ہیں، جس پر ڈائریکٹر ایڈمن این ڈی ایم اے نے بتایا کہ الحفیظ کمپنی کی مشینری این ڈی ایم اے نے امپورٹ نہیں کی۔

جسٹس گلزا ر احمد نے کہا کہ ابھی تک الحفیظ کمپنی کا مالک سامنے نہیں آسکا، اصل مسئلہ کسٹم اوردیگرقوانین پرعمل نہ ہونا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ دستاویزات کے مطابق مشینری کی قیمت ظاہرنہیں کی گئی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ چارٹرڈ کیلئے ایک کروڑ 7لاکھ سے زائد نقد رقم ادا کی گئی، چارٹرڈ معاہدے کے مطابق ادائیگی کیسے کرسکتے ہیں، کراچی میں اتنا کیش کوئی کیسے دے سکتا ہے،لگتاہے ہمارے ساتھ کسی نے بہت ہوشیاری اورچالاکی کی ہے، ویکسین اورادویات کی امپورٹ کی دستاویزات کہاں ہیں۔

اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا کہ متعلقہ حکام کوعدالت کومطمئن کرنا ہوگا،جس پر جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب کیا تماشہ چل رہا ہے، لگتا ہے این ڈی ایم اے کوہی ختم کرنا پڑے گا، کیا این ڈی ایم اے کو ختم کرنے کیلئے وزیراعظم کوسفارش کردیں، چیئرمین این ڈی ایم اے وضاحت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ این ڈی ایم اے کے لوگ عدالت میں موجود ہیں،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ شایدبہت کچھ غلط ہوا ہے جس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے ،کیوں نا چیئرمین این ڈی ایم اے کوتوہین عدالت کا نوٹس جاری کردیں۔

اٹارنی جنرل نے این ڈی ایم اے کا جمع شدہ جواب واپس لینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ دستاویزات سمیت جامع جواب جمع کرائیں گے۔

سپریم کورٹ نے ایس ای سی پی سے الحفیظ کمپنی کی تمام تفصیلات طلب کرلیں،عدالت نے این ڈی ایم کا جواب ممبرایڈمن کوواپس دے دیااور تمام تفصیلات پر مبنی جامع جواب طلب کرلیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ڈریپ نے نان رجسٹرڈ ادویات کی درآمد کی اجازت کیسے دی؟جس پر چیئرمین ڈریپ نے بتایا کہ ایمرجنسی میں ادویات اورمشینری درآمد کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کس اسپتال نے مشینری اورادویات مانگی تھیں؟ بھارت سے آنے والی ادویات کون سی تھیں۔

جس پر چیئرمین ڈریپ نے بتایا کہ بھارت سے آنے والی ادویات کی امپورٹ پرپابندی لگی تھی، بھارت سے خام مال دوبارہ آرہا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بھارت سے آنے والی ادویات کی حیثیت کیا تھی؟جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کابینہ نے چند ادویات کی اجازت دی لیکن امپورٹ بہت زیادہ ہوئیں، شہزاد اکبرنے رپورٹ جمع کرائی کہ اجازت کا غلط استعمال کیا گیا۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ ڈریپ کی ملی بھگت کے بغیر کوئی بھی دوا نہیں آسکتی،جعلی ادویات بنانے والوں اور فروخت کرنے والوں کو سزائے موت ہونی چاہیئے جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ محکمہ صحت کا کام صرف خط لکھنا نہیں ہے۔

عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پرسیکرٹری صحت ادویات کی قیمتوں کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ کے ہمراہ پیش ہوں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب حکومت کتنی لگزری گاڑیاں خرید رہی ہے، پنجاب حکومت نے بتایا نہیں کہ 500 ملین کی کونسی لگثری گاڑیاں امپورٹ کی جائیں گی، کوئی ایمبولینس ہے کچرا گاڑی ہے یا پراڈو کچھ معلوم نہیں،جس پر ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ پنجاب حکومت کوئی گاڑیاں امپورٹ نہیں کر رہی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے گزشتہ سماعت پر پنجاب کی جانب سے یہی کہا گیا کہ گاڑیاں نہیں منگوا رہے، کورونا کی وجہ سے ترقیاتی فنڈزتوجاری نہیں کررہے پھریہ گاڑیاں کیسے خریدی جا رہی ہیں ؟۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ گزشتہ سال کتنی گاڑیاں خریدی گئیں؟،جس پر ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ گزشتہ سال کی معلومات ابھی نہیں ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پہلے بھی بی ایم ڈبلیو،ڈبل کیبن پراڈوخریدنے پرسپریم کورٹ نے حکم جاری کیا تھا، اب پنجاب حکومت دوبارہ 500 ملین کی گاڑیاں خرید رہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ڈونرز سے قرض لے کر گاڑیاں خریدی جاتی ہیں، افسران کہتے ہیں کھیتوں میں جانا ہے اس لئے بڑی گاڑی چاہیئے۔

جسٹس اعجازلاحسن نے کہا کہ صاف پانی کمپنی نے 4ارب روپے خرچ کئے تھے، صاف پانی تو ملا نہیں اربوں روپے کی لگژری گاڑیاں خریدی گئی، عدالت نے حکم دے کر گاڑیاں حکومت کو واپس کرائیں۔

عدالت نے کہا کہ پنجاب حکومت نے 468 روپے گاڑیوں کی خریداری کیلئے مختص کئے، بتایا گیا فنڈز مختص کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ گاڑیاں لازمی خریدی جائیں گی۔

عدالت عظمیٰ نے صوبائی حکومت اور سرکاری کمپنیوں کے پاس موجود گاڑیوں کی تفصیلات طلب کرلی اور ڈونرایجنسیوں کی جانب سے دی گئی رقم سے خریدی گئی گاڑیوں کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔

سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو بجٹ میں گاڑیوں کیلئے مختص فنڈ استعمال کرنے سے روک دیا۔

سندھ حکومت نے تفصیلی رپورٹ جمع کرنے کیلئے وقت مانگ لیا جس پر عدالت عظمیٰ نے سندھ حکومت کو 2 ہفتوں کا وقت دے دیااور بلوچستان حکومت سے بھی 2ہفتوں میں جواب طلب کرلیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بدنامی میں پاکستان زمین کی تہہ تک پہنچ چکا ہے، پاکستان کو دنیا کا کرپٹ ترین ملک کہا جاتا ہے، سی اے اے کے بعض جاری لائسنس سمجھ سے باہر ہیں۔

ڈی جی سول ایوی ایشن نے کہا کہ فرانزک آڈٹ کے مطابق 262لائسنس جعلی ہیں،28 لائسنس مسنوخ کر کے 189 کیخلاف کاروائی شروع کردی ہے، فرانزک آڈٹ تھرڈ پارٹی سے 2010 سے 2018 تک کروایا گیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ 2018 میں عدالت نے لائسنس چیک کرنے کا حکم دیا تھا۔

چیف جسٹس نے ڈی جی سول ایوی ایشن سے مکالمہ کیا کہ کیا مضبوط آدمی ہیں،جس پر ڈی جی سول ایوی ایشن نے جواب دیا کہ انشاء اللہ میں مضبوط آدمی ہوں۔

جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ آپ کا انشاء اللہ عملی طور پر نظر نہیں آرہا ہے، سی اے اے کا تمام عملہ سمجھوتہ کر چکا ہے، جعلی لائسنس دینے والے تمام افسران کو برطرف کریں، سی اے اے کے تمام افسران کو ان کا حصہ پہنچ رہا ہوتا ہے، جعلی لائسنس پر دستخط کرنے والے جیل جائیں گے، حکومت کی منظوری سے ایف آئی اے کو معاملہ بھجوائیں گے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کمپیوٹر تک غیر قانونی رسائی پر کیا کاروائی ہوئی، مئی میں حادثہ ہوا اب تک صرف چٹھی بازی ہو رہی ہے، کراچی حادثے کے پائلٹ کو لائسنس 1990میں جاری ہوا تھا، 2010 سے پہلے جاری لائسنس کا کیا کریں گے، اب فوری طور پر عملی اقدامات کا وقت ہے، جہاز کا پائلٹ 300بندوں کی ذمہ داری چھوڑ کر کورونا پر گفتگو کررہا تھا۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ڈی جی سول ایوی ایشن سے استفسار کیا کہ آپ کو رات کو نیند کیسے آجاتی ہے ؟آپ کو تو کام کام اور صرف کام کرکے نتائج دینے چاہیئے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ پاکستان کے علاوہ کتنے ممالک میں جعلی لائسنس نکلے؟ سیاسی مداخلت ہے پائلٹ اتنے بااثر ییں کہ ایکشن نہیں ہو رہا، پوری دنیا میں سول ایوی ایشن نے ملک کو بدنام کیا۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ حکومت کی منظوری سے ایف آئی اے کو معاملہ بھجوائیں گے،1947 سے آج تک جاری تمام لائسنس چیک کریں۔ ڈی جی سول ایوی ایشن نے بتایا کہ کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا 2010 میں شروع ہوا اس لئے وہاں سے آڈٹ ہوا، پی آئی اے کے31جہاز اور 450 پائلٹ ہیں، دنیا کی 10ایئر لائینز میں 176 پاکستانی پائلٹ کام کررہے ہیں۔

ایم ڈی پی آئی اے ارشد محمود ملک عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ جعلی ڈگری والے 750 ملازمین کو نکالا ہے، بھرتیوں میں ملوث افراد کو بھی نکالا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں نے پی آئی اے پر سفر کرنا چھوڑ دیا ہے،جس پر ارشد ملک نے کہا کہ پی آئی اے میں 141 جعلی لائسنس والے پائلٹس نکلے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ پی آئی اے کو 450 پائلٹس کی ضرورت ہی کیوں ہے،جس پر ارشد ملک نے بتایا کہ جعلی ڈگریوں والے 15 پائلٹس کو برطرف کیا گیا، پائلٹس کو صرف معطل کر سکتا ہوں برطرف سول ایوی ایشن کرتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ کو پائلٹس برطرف کرنے کا اختیار ہے،جس پر ارشد ملک نے کہا کہ بدقسمتی سے قانون نے میرے ہاتھ باندھے ہوئے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ مسئلے کا حل نہیں کہ 500 ملازم نکال کر اتنے ہی بھرتی کر لیں،جس پر ارشد ملک نے کہا کہ پی آئی اے کا 50 فیصد عملہ نکال رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ پی آئی اے کا کوئی اثاثہ بھی فروخت نہیں کر سکیں گے جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ روزویلٹ ہوٹل سمیت پی آئی اے کا کوئی اثاثہ عدالت کی اجازت کے بغیر فروخت نہیں ہوسکتا۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ گلشن جناح میں پی آئی اے پلاٹ پر آج بھی شادی ہال بنا ہوا ہے، شادی ہال نہ گرانے پر توہین عدالت کی کارروائی کریں گے۔

عدالت نے کہا کہ سول ایوی ایشن کے کمپیوٹر محفوظ نہیں، سول ایوی ایشن اتھارٹی میں ہونے والا کوئی کام محفوظ نہیں رہا۔

سپریم کورٹ نے جعلی لائسنس ہولڈر پائلٹس کیخلاف کارروائی فوری مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے جعلی لائسنس جاری کرنے والے افسران کیخلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت عظمیٰ نے سول ایوی ایشن اور پی آئی اے کی رپورٹس پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے 2ہفتے میں کارروائی پر مبنی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔