حکومت نے قومی مالیاتی کمیشن سے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کو نکال دیا
اسلام آباد:وفاقی حکومت نے ایک اور یو ٹرن لیتے ہوئے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی )سے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کو نکال دیا ،این ایف سی کی تشکیل کا نیا نوٹیفکیشن اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے پیش کردیا ۔
اسلام آبادہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے قومی مالیاتی کمیشن کیخلاف مسلم لیگ ن کی درخواست پر سماعت کی۔
اٹارنی جنرل خالد جاوید نے وفاقی حکومت کا قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل کا نیا نوٹیفکیشن عدالت کے سامنے پیش کیا۔
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پہلا نوٹیفکیشن غیر مؤثر ہو گیا، اب یہ نوٹیفکیشن آن فیلڈ ہے، مشیر خزانہ کو نئے نوٹیفکیشن کے مطابق کمیشن میں شامل نہیں کیا گیا، ایف ایف سی کی تشکیل کیخلاف ٹی او آرز میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔
جسٹس عامرفاروق نے درخواست گزار سے کہا کہ جس نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا گیا تھا وہ حکومت نے واپس لے لیا ، آپ نے جو استدعا کی اس پر عمل ہو گیا، کمیشن کے نئے نوٹیفکیشن کے بعد آپ کی درخواست غیر مؤثر ہوگئی۔
بعد ازاں عدالت نے نیا نوٹیفکیشن پیش کئے جانے کے بعد مسلم لیگ ن کے رہنماءخرم دستگیر کی درخواست نمٹادی۔
میڈیا سے گفتگو میں لیگی رہنماوں محسن شاہ نواز رانجھا اور خرم دستگیر خان نے اسے عوام کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم آئین کا دفاع نہیں کریں گے تو ہم پاکستان کو کمزور کریں گے، وفاق کے پاس کوئی اختیار نہیں کہ وہ صوبوں کے حق پر ڈاکہ ڈالے۔
لیگی رہنماؤں کاکہنا تھا کہ مسلم لیگ ن صوبوں کے وسائل کی نگہبان ہے، نئے نوٹس کا بھی جائزہ لے رہے ہیں، ہمارا مقصد ہے کہ حکومت وقت کو آئین کے وضع کردہ پیمانوں میں لائیں۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔