پہلانشان حیدر پانے والے کیپٹن محمد سرورشہید کاآج 72واں یوم شہادت
کراچی : پہلانشان حیدر پانے والے پاکستان کے عظیم سپوت جانباز کیپٹن محمد سرور شہید کا آج 72واں یوم شہادت منایا جارہا ہے،انہوں نے 1948میں جنگ کشمیر کے دوران شہادت کا جام پیا۔
جنگ کشمیر1948کے ہیرو کی عظیم قربانی کوقوم کی جانب سے زبردست خراج عقیدت پیش کیا جارہا ہے۔
پاکستان کےعظیم سپوت اورپہلا نشان حیدرپانے والے پاک فوج کے کیپٹن محمدسرورکی یوم شہادت کے موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخارنے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ کیپٹن سرور شہید کی ناقابل تسخیر جرات ہمیشہ یاد ر کھی جائےگی۔
Nation venerates supreme sacrifice of Capt Muhammad Sarwar Shaheed, NH, #Kashmir War 1948. His insurmountable courage & unwavering loyalty will forever be an epitome of valiance. Every bullet he took 4 country, for Kashmir, strengthens our resolve to defend Pakistan at all cost.
— DG ISPR (@OfficialDGISPR) July 26, 2020
ترجمان پاک فوج نے مزید لکھا کہ کیپٹن محمد سرور شہید کی ناقابل تسخیر جرات اور وطن سے غیرمتزلزل وفاداری ہمیشہ بہادری کا استعارہ رہے گی جبکہ کشمیر اور وطن کی خاطران کے سینے پرلگی ہرگولی دفاع وطن کے عزم کو مزید جلا بخشتی ہے۔
خیال رہے کہ کیپٹن محمد سرور شہید ضلع راولپنڈی کے ایک گاؤں سنگھوری میں 10 نومبر 1910 میں پیدا ہوئے۔
محمد سرور شہید نے اپنی ابتدائی تعلیم فیصل آباد سے حاصل کی، 1929 میں انہوں نے فوج میں بطور سپاہی شمولیت اختیار کی، 1944میں پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔
جس کے بعد انہوں نے برطانیہ کی جانب سے دوسری عالمی جنگ میں حصہ لیا، شاندار فوجی خدمات کے پیشِ نظر 1946 میں انہیں مستقل طور پر کیپٹن کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔
قیام پاکستان کے بعد سرور شہید نے پاک فوج میں شمولیت اختیار کرلی،1948ء میں جب وہ پنجاب رجمنٹ کے سیکنڈ بٹالین میں کمپنی کمانڈر کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے، انہیں کشمیر میں آپریشن پر مامور کیا گیا۔
محمد سرور کے فوجی دستے نے گلگت بلتستان میں لداخ کی طرف بھارتی فوج کو پسپا کیا تھا جس کے بعد دشمن نے کیپٹن سرور کا راستہ خاردار تاروں سے بند کیا تو انہوں نے انہیں کاٹ ڈالا تھا، خاردار تاریں کاٹنے کے دوران گولہ باری سے کیپٹن سرور کے سینے پر زخم آئے تھے۔
ستائیس جولائی 1948ء جب ان کی بٹالین نے اڑی سیکٹر میں دشمن کی ایک اہم پوزیشن پر حملہ کیا تو اس حملے کے دوران انہوں نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا، مجاہدین نے جب انہیں شہید ہوتے دیکھا تو انہوں نے دشمن پر ایسا بھرپور حملہ کیا کہ وہ مورچے چھوڑ کر بھاگ گئے۔
ستائیس اکتوبر 1959ء کو انہیں نشانِ حیدر کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا گیا، انہیں پہلا نشانِ حیدر پانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
مادر وطن کی خاطر بیرونی دشمنوں کے خلاف جنگ لڑنے والے کیپٹن سرور شہید آج دہشت گردوں اور اندرونی چیلنجز سے نبرد آزما پاک فوج کے جری سپوتوں کلئے بہادری کی روشن مثال ہیں۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔