کراچی میں بارش کی تباہ کاریاں، اپوزیشن کا احتجاج
بارشوں کی تباہ کاریوں پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے اور وزیر بلدیات کی عدم موجودگی پر اپوزیشن سندھ اسمبلی اجلاس میں سراپا احتجاج ہے۔
کے الیکٹرک کے خلاف بھی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ سندھ کوڈ 19 ایمرجنسی ترمیمی بل ، سندھ سیف سٹی اتھارٹی بل اور ڈرگ اتھارٹی سمیت چار بل منظور کرلیے۔ اسپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا۔
سندھ اسمبلی کے اجلاس میں جاری بارشوں کی تباہ کاریوں سے متعلق اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی اور نصرت سحر عباسی نے بارشوں سے متعلق اور وزیر بلدیات کی عدم موجودگی پر آواز اٹھائی تو انہین بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی جس پر اپوزیشن سراپا احتجاج بن گئی جس پر اپوزیشن لیڈر بولے۔حکومت بارشوں سے ہونے والی تباہ کاریوں سے بھاگنے کی کوشش کررہی ہے اس لیے ہم بائیکاٹ کررہے ہیں۔
کراچی میں کاروباری مراکز اور رہائشی علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور زائد بلنگ اور کے الیکٹرک کو فراہم کی جانے والی بجلی کا فرانزک آڈٹ کرانے اور لوڈشیڈنگ کے خاتمے سے متعلقہ مشترکہ قرارداد ایوان ن نے متفقہ طور پر منظور کرلی۔
صوبے بھر شمسی توانائی کے آلات اور مشینری درآمد کرنے پر ٹیکس کی چھوٹ کی قرارداد بھی منظور کرلی۔
ایوان میں سندھ کوڈ 19 ریلیف ترمیمی بل، سندھ سیف سٹیز اتھارٹی بل ، سندھ وائلڈ لائف پروٹیکشن، پرزرویشن ، کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ بل اور ڈرگ اتھارٹی ایکٹ ترمیمی بل بھی منظور کرلیا گیا۔ اسپیکر نے اسمبلی پارلیمانی سو دن پورے ہونے پر ارکین مبارکباد دی اور اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔