'کراچی کی زمینوں پر ایم کیوایم نے قبضے کرائے'
صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی کہتے ہیں کراچی کی زمینوں پر ایم کیوایم نے قبضے کرائے، نالوں پر بنے مکانات اور مارکیٹس گرائیں تو یہی لوگ متاثرین کیساتھ کھڑے ہوں گے۔
کمشنرآفس کراچی میں میڈیا کانفرنس میں وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ نالوں پرتجاوزات سے صفائی کے مسائل درپیش ہیں۔ بارشوں میں پانی زیادہ دیر رکا نہیں۔ بڑی سڑکوں پر پانی جمع ہوا تو بھی رات تک نکل گیا،کچھ علاقوں میں مسائل پیش آئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ نالوں پر تجاوزات ہیں جن کی وجہ سےصفائی میں بھی مسئلہ آتا ہے۔ متعددبار صفائی شروع کی رکاٹوں کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔ کراچی کا 35 فیصد حصہ کے ایم سی کی حدود میں آتا ہے۔ بقیہ 65 فیصد شہرکنٹونمنٹس، سی اےاے، کے پی ٹی، ریلوے اورڈی ایچ اے کی حدود ہیں۔ کے ایم سی کی حدود کے باہرجوکچھ بھی ہوتا ہے اس کے ذمہ دار متعلقہ ادارے ہیں۔
چیئرمین این ڈی ایم نے کہا تھا شہرمیں ناجائزکیساتھ جائزہ تجاوزات ہیں ۔تجاوزات کسی کی بھی حدود میں صاف کی جائیں گی ۔ شارع فیصل کا بڑا حصہ بھی مختلف کنٹونمنٹس کی حدود میں آتا ہے ۔کلفٹن گلاس ٹاورغیرقانونی تعمیرات کے باعث مسائل پیدا ہوئے۔45 لاکھ کیوبک فٹ کچرا نالوں سے نکال کر لینڈ فل سائٹ پر منتقل کیا گیا ہے۔
ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ نالوں پر انکروچمنٹ کو ختم کیاجائے گا۔تین نالوں پر این ڈی ایم اے کام کر رہا ہے۔ سندھ حکومت بھی کسی چیز سے بری الذمہ نہیں ہے۔
وزیرتعلیم سعید غنی بولے کراچی کی زمینوں پر ایم کیوایم نے قبضے کرائے.نالوں پر بنے مکانات اور مارکیٹس گرائیں تو یہی لوگ متاثرین کیساتھ کھڑے ہوں گے۔ محمود آباد میں ٹریٹمنٹ کی زمین بیچ دی گئی۔الاٹی تو زمین بیچ کر نکل گئے اب دو ہزارلوگوں کو ہٹانا آسان کام نہیں ہے. تنقید وہ کررہے ہیں جنہوں نے قبضے کرائے۔
ناصر شاہ نے کہا کہ پہلے بھی کراچی میں کئی دنوں تک پانی کھڑا ہوتا تھا۔ اب ایسا نہیں،سندھ حکومت اپنا کام کر رہی ہے،جائز تنقید کریں۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔