بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا ایجنڈہ آشکار ہوگیا!
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں 5 قائم مقام سربراہان کے بعد حکومت سندھ کو بلاآخر مستقل ڈائریکٹر جنرل تعینات کرنا ہی پڑا وہ بھی سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق انجینئرنگ ڈگری کا حامل جو صرف سندھ حکومت کی مبینہ کرپشن میں معاونت کی بجائے شہر کے انفراسٹریکچر کی بربادی کے باعث بننے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف راست اقدامات کرے۔
مگر یہ کام آسان ہے، لیکن من بنالیں تو دلی دور بھی نہیں ہے۔ آشکار داور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے سینئر ترین افسران میں شمار ہوتے ہیں۔بلڈر مافیا اور اپنے ادارے کی کالی بھیڑوں کے کٹھ جوڑ کو بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ڈی جی بنتے ہی اس مشکل ترین کام میں ہاتھ ڈالا ہےاور انکی دو طرفہ کاروائی کے باعث نہ صرف ادارے کے بدعنوان افسران پریشان ہیں بلکہ بلڈر مافیا کو بھی سمجھ نہیں آرہا کہ کہاں اور کس سے سفارش کرائیں کہ جان بخشی ہوسکے؟
کراچی میں بڑے پیمانے پر غیرقانون تعمیرات شہر کے وسط میں گنجان آباد لیاقت آباد، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، نیو کراچی، فیڈرل بی ایریا (گلبرگ)، جیل روڈ، جمشید روڈ، پی ای سی ایچ ایس، محمود آباد، گلشن اقبال، اولڈ سٹی ایریا، صدر اور لیاری سمیت محلقہ علاقوں میں ہوتی ہیں کیونکہ دکان ہو یا مکان، فلیٹ ہو یا پورشن ان علاقوں میں فوری بک جاتا ہے۔ بلکہ بعض اوقات تو بننے سے پہلے ہیں فروخت ہوچکا ہوتا ہے۔
نئے ڈی جی ایس بی سی اے آشکار داور نے غیرقانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن کا آغاز گارڈن میں باغ ہالار سے متصل 8 منزلہ غیرقانونی عمارت کے خلاف کاروائی سے کیا اور کاروائی کے دوران انہیں میڈیا سمیت دیگر کئی شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی سفارشی فون کالز بھی موصول ہوئیں لیکن عمارت مسمار کرنے کی کاروائی جاری رہی، عمارت کا مالک خود بلڈنگ کنٹرول پہنچا اور بتایا کہ کس طرح 2 بلڈنگ انسپکٹرز لعل خان مگسی اور ظفر اقبال عرف سپاری نے عمارت تعمیر کرانے کے عوض اس سے بھاری رشوت وصول کی ہے، لہزا دونوں بلڈنگ انسپکٹرز بھی معطل کردیئے گئے اور انکے خلاف انکوائری بھی شروع ہوگئی۔
مگر اہم بات یہ ہے بلڈر اور بلڈنگ انسپکٹرز کے درمیان ڈیل کرانے والا اب بھی آزاد ہے، آصف عرف بلیچ کے نام سے مشہور اس ٹھگ کا نام اولڈ سٹی ایریا میں تعمیراتی کاروبار سے وابسطہ افراد کیلئے خوف کی علامت ہے، علاقے میں کوئی کام ایسا نہیں ہوتا جس میں آصف بیلچ کا حصہ نہ ہو۔ گارڈن کی 8 منزلہ عمارت کے مالک سے بھی آصف بلیچ نے بڑا حصہ وصول کیا بدلے میں عمارت کو تحفظ فراہم کرنے کا وعدہ تھا مگر آصف بلیچ عین موقع پر ایسا ڈرامہ راچایا کہ بلڈر سے لئے جانے والے پیسوں میں سے 10 لاکھ خرچ کرکے عمارت کے حوالے سے خبر بلڈنگ کنٹرول کے افسران تک پہنچوائی گئی۔
اندھا کیا چاہے؟دو آنکھیں۔ڈی جی ایس بی سی اے کو تو آپریشن شروع کرنا تھا اچھا ہے جب تک انہدامی کاروائی کئی دن سے جاری ہے اور جب تک کاروائی چلے کی میڈیا میں بازگشت بھی سنائی دیتی رہے گی۔
مگر ڈی جی اس بار کسی کو معاف کرنے کے موڈ میں نہیں۔چند دن پہلے لیاقت آباد، گلبرگ اور ناظم آباد کے اچانک دورے پر نکل پڑے، علاقے کے افسران کے علاوہ میڈیا بھی ساتھ تھا، جہاں جہاں غیرقانونی عمارتیں نظر آئیں سب سے پہلے علاقے کے بلڈنگ انسپکٹر کو معطل کیا، پھر تعمیرات مسمار کرانے کا حکم صادر کردیا۔ لیاقت آباد کے تو ڈائریکٹر ملک اعجاز تک کو وارنگ لیٹر جاری کرڈالا۔ مگر ڈی جی صاحب ناظم آباد میں ہے ایک امین مچھلی والا، جو کبھی مچھلی بیچ کر 5 سو ہزار یومیہ کمایا کرتا تھا، مگر اب وہ غیرقانونی عمارتیں بناتا ہے اور لاکھوں کماتا ہے، ناظم آباد گول مارکیٹ پر اب بھی امین مچھلی والے کی غیرقانونی تعمیرات جاری ہیں۔
یہی نہیں، جمشید روڈ جیل روڈ اور سولجر بازار میں بھی غیرقانونی تعمیرات بلڈنگ کنٹرول کی اتھارٹی کا مزاق اڑا رہی ہیں، جہاں غیر قانونی تعمیرات مزار قائد کے تقدس تک کو پامال کررہی ہیں، یہ تمام عمارتیں بھی انہدام آپریشن کی زد میں آنے کو بے تاب ہیں۔ان کا نمبر کب آئے گا؟؟؟















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔