Aaj TV News

BR100 4,439 Increased By ▲ 19 (0.44%)
BR30 22,677 Increased By ▲ 65 (0.29%)
KSE100 42,505 Increased By ▲ 170 (0.4%)
KSE30 18,046 Increased By ▲ 102 (0.57%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 288,047 747
DEATHS 6,162 9

کراچی :سپریم کورٹ میں سرکلر ریلوے کی بحالی سے متعلق کیس میں چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کی دی ہوئی مدت ختم ہوگئی سرکلر ریلوے کیوں بحال نہیں ہوئی، آپ ہمارے ساتھ کھیل رہے ہیں؟ آپ کا ایک سال ختم ہوگیا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سرکلر ریلوے کی بحالی سےمتعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

سیکریٹری ریلوے نے بتایا ٹریک تقریباً کلیئر کرالیا گیا ہے،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ کھیل رہے ہیں؟ آپ کا ایک سال ختم ہوگیا ہے، عدالت کی دی ہوئی مدت ختم ہوگئی ہے ریلوے ٹریک کیوں بحال نہیں ہوا ۔

سیکریٹری ریلوے نے کہا کہ صرف مسئلہ یہ ہے گرین لائن کی وجہ سے کچھ مقامات پر رکاوٹ ہے،جس پر عدالت نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل صاحب آپ کی حکومت نے کیا کیا ہے؟ ۔

ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ ہم انڈر پاسز اور اوور ہیڈ برجز بنا رہے ہیں تاکہ رکاوٹ ختم ہوجائے۔

سیکریٹری ٹرانسپورٹ سندھ نے بتایا ہم نے اس سال بجٹ میں ان منصوبوں کیلئے 5ارب روپے رکھے ہیں،3ارب جاری ہوگئے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی حکومت کے پاس جو بھی کام جاتا ہے وہ لامحدود مدت کیلئے ہوتا ہے۔

جسٹس فیصل عرب نے کہا ٹینڈر ابھی تک کیوں نہیں کیا ؟ آپ کوعدالتی حکم کی کوئی پرواہ نہیں ۔

جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ آپ کسی طرح بھی کریں مقررہ مدت میں کام ہونا چاہیئے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ صحیح لوگوں کو صحیح کام دیں، جس پر کمشنر کراچی نے بتایا کہ جہاں تک کام مکمل ہے چند ماہ میں بس چلا دیں ۔

سیکریٹری ٹرانسپورٹ نے بتایا ریلوے نے ہمیں 24 کراسنگز کا بتایا تھا، ہم نے 10کراسنگز بنا دی ہیں بقیہ میں ضرورت نہیں۔

عدالت نے سندھ حکومت کو مقررہ مدت میں انڈر پاسز، فلائی اوورز بنانے فینسنگ اور دیگر کام فوری مکمل کرنے کا حکم دے دیا ۔