Aaj TV News

BR100 4,439 Increased By ▲ 19 (0.44%)
BR30 22,677 Increased By ▲ 65 (0.29%)
KSE100 42,505 Increased By ▲ 170 (0.4%)
KSE30 18,046 Increased By ▲ 102 (0.57%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 288,047 747
DEATHS 6,162 9

کراچی :سپریم کورٹ میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے متعلق کیس میں چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ آدھا کراچی بجلی سے محروم پڑا ہوا ہے ، پرسوں کے الیکٹرک کو لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا کہا تو کل آدھے کراچی میں بجلی بند کردی،کیا ان کا دماغ ٹھیک ہے؟ لوگ مرتے ہیں اور یہ جا کر ہائیکورٹ سے ضمانت کرالیتے ہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں شہر قائد میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔

دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کے الیکٹرک کے وکیل پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آدھا کراچی بجلی سے محروم ہے اور آدھے کراچی میں بجلی نہیں ہوتی، یہ کون ہوتے ہیں بجلی بند کرنے والے ؟ پرسوں ان کو کہا تو کل آدھے کراچی میں بجلی بند کردی ان کا دماغ لگتا ہے ٹھیک نہیں ہے؟جس پر وکیل کے الیکٹرک نےوضاحت دی کہ سر بجلی بند نہیں ہوئی تھی ۔

سی ای او کے الیکٹرک کی حفاظتی ضمانت پرناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ لوگ مرتے ہیں اور یہ جا کر ہائیکورٹ سے ضمانت کرالیتے ہیں 50،50ہزار روپے میں ،ہائیکورٹ بیٹھا ہے اس کام کیلئے جاکر ضمانت لے لیتے ہیں ، لوگوں کی زندگی کا معاملہ ہے ہم لوگوں کو ان کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے ۔

چیئرمین نیپرا نے کہا کہ کے الیکٹرک کیخلاف کارروائی ہو تو اسٹے آرڈر لے لیتے ہیں ، گیس ،فیول اور بجلی کی پیداوار سمیت ان کے سارے معاملات خراب ہیں ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ساری دنیا میں ریگولیٹرز کے معاملات عدالت میں نہیں جاتے، ان کی منا پلی ہے جس کا خمیازہ کراچی والے بھگت رہے ہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ان کو صرف پیسہ چاہیئے،ان کا باس چاہتا ہے کراچی والوں کا پیسہ نچوڑلیں، جس کمپنی کا مالک جیل میں بیٹھا ہو اس سے کیا امید ہے، ہماری حکومت کا حال دیکھیں ایسی کمپنی کو کراچی دیا ہوا ہے ، یہ ڈیفالٹر کمپنی ہے ،اس کا مالک جیل میں بند ہے وہ کے الیکٹرک چلا رہا ہے ،پورا ملک بھی اسی کو دے دیں۔

'سارے معاملات آپ کے اتنے گندے ہیں لوگوں کو بجلی پانی نہیں ملتا رہنے کیلئے جگہ نہیں ملتی ،بڑے بڑے لوگ مزے کررہے ہیں وہ بڑی بڑی گاڑیوں میں دیکھ کر آجاتے ہیں'۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے مزید کہا کہ ان لوگوں کو جیل میں کوئی مسلہ نہیں ان کو اس وقت مسئلہ ہوتا ہے ،جب پیسہ نکلوا یا جائے،جیل میں تو انجوائے کرتے ہیں ان کی جیب پر بات آے تب جان جاتی ہے ، ان پر تو بھاری جرمانے لگنے چاہیئے، سیاستدان جیل میں مزے کرتے ہیں ان جیب سے پیسہ نکلوائیں تو تکلیف ہوتی ہے۔

سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے کراچی میں بجلی کے مسلے کے حل سے متعلق رپورٹ طلب کرلی اور وفاقی حکومت کو کراچی میں لوڈشیڈنگ کامستقل حل نکالنے کی ہدایت کردی۔

عدالت نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ بتائیں کراچی میں لوڈ شیڈنگ کیسے ختم ہوگی ، وفاقی حکومت کراچی میں لوڈ شیڈنگ کا مستقل حل نکالے ، کسی علاقے میں کوئی ڈیفالٹر ہو تو پورے علاقے کی بجلی بند ہوجاتی ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے ۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی کی درخواست بھی سماعت کیلئے طلب کرلی۔