Aaj TV News

BR100 4,439 Increased By ▲ 19 (0.44%)
BR30 22,677 Increased By ▲ 65 (0.29%)
KSE100 42,505 Increased By ▲ 170 (0.4%)
KSE30 18,046 Increased By ▲ 102 (0.57%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 288,047 747
DEATHS 6,162 9

اسلام آباد ہائیکورٹ نے زمینوں پرقبضے کے کیس میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ وفاق کومافیا چلا رہا ہے، یہ وفاقی دارالحکومت ہے کوئی تورا بورا نہیں ہے، قانون نافذ کرنےوالے ہی قانون شکن بن گئے،ہر محکمہ ہاؤسنگ سوسائٹی کے کاروبار میں ملوث ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ایف آئی اے کا 600 کنال ہاوسنگ سوسائٹی کو فروخت کرنے کے کیس پر سماعت کی ۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 1400مربع میل کا دارالحکومت ہے جہاں کوئی قانون نہیں ،امید نہیں تھی کہ ڈی سی اسلام آباد کے ہوتے ہوئے زمینوں پرقبضے ہوں گے، ڈپٹی کمشنر کا دفتر استعمال ہوتا ہے ،زمینوں پرقبضوں کے کیسز میں سب سے زیادہ اوورسیز پاکستانی متاثر ہیں، سی ڈی اے نے ماسٹرپلان اور ماحول تباہ کردیا ۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم درست کہتے ہیں کہ اداروں کو مافیا نے کنٹرول کررکھا ہے ، اسلام آباد اس کی بہترمثال ہے، پورے شہر کو تورا بورا بنا دیا ، تمام نظام کی بنیاد کرپشن پر ہے، سی ڈی اے بھی سہولت کار ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اسلام آباد میں درخت کٹ رہے، یہ سب طاقتور لوگ کررہے ،طاقتور کا غیرقانونی کام ہو تو کہتے ہیں ریگولرکردو، کیا ہم آئینی عدالتیں بند کردیں؟ زمینوں پر قبضے کی تفتیش ایف آئی اے نے کرنی ہے جس کے افسر خود زمینیں فروخت کررہے ہیں ، وزارت داخلہ، آئی بی کی اپنی ہاؤسنگ سوسائٹی ہیں ،کیا یہ کام کرسکتے ہیں ؟ سب لوگ نظام کی تباہی کے ذمہ دارہیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کسی کو ذمہ داری لینا ہوگی، وفاق کو اس حوالے سے فیصلے کرنے ہوں گے۔ عدالت نے ڈپٹی کمشنرکو ہدایت کی کہ کل سے کوئی شکایت نہیں ہونی چاہیے کہ زمین پرقبضہ ہوا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے زمینوں پرقبضے کے کیس میں کابینہ ڈویژن اور داخلہ کے سیکرٹریز کو 7ستمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ۔