Aaj TV News

BR100 4,439 Increased By ▲ 19 (0.44%)
BR30 22,677 Increased By ▲ 65 (0.29%)
KSE100 42,505 Increased By ▲ 170 (0.4%)
KSE30 18,046 Increased By ▲ 102 (0.57%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 288,047 747
DEATHS 6,162 9

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے گیس انفراسٹرکچرڈویلپمنٹ سیس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا،عدالت نے حکومت کوسیس بقایاجات وصولی تک مزید سیس عائد کرنے سے روک دیا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس فیصل عرب نے 78 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ تحریرکیا ،فیصلہ دوایک کی اکثریت سے تحریرکیا گیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جی آئی ڈی سی ایکٹ 2015 کا مقصد گیس کی درآمد کیلئے سہولت دینا تھا،جی آئی ڈی سی کے تحت نافذ کی گئی لیوی آئین کے مطابق ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں حکومت کوسیس بقایا جات کی وصولی تک مزید سیس عائد کرنے سے روک دیا ہے۔

عدالت عظمی کی جانب سے فیصلے میں کہا گیا کہ سال 2020-21 کیلئے گیس قیمت کا تعین کرتے وقت اوگرا سیس کومدنظرنہیں رکھ سکتا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں حکم دیا ہے کہ تمام کمپنیوں سے31 اگست 2020 تک کی واجب الادا رقم 24 اقساط میں وصول کی جائیں۔

عدالت عظمیٰ نے حکومت کوشمال جنوبی پائپ لائن منصوبہ پرکام 6 ماہ میں شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے حکومت کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ تاپی منصوبے کے پاکستانی سرحد تک پہنچتے ہی فوری کام شروع کیا جائے۔

دوسری جانب فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ نے اختلافی نوٹ تحریر کیا ہے جو 30 صفحات پر مشتمل ہے۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ حکومتی آرڈیننس غیرآئینی اورغیرقانونی ہے،جی آئی ڈی سی ایک فیس ہے ٹیکس نہیں،جی آئی ڈی سی کومنی بل کے طورپرپاس نہیں کرایا جا سکتا۔

حکومت نے جی آئی ڈی سی پر6ماہ کے اندرقانون سازی نہ کی تو رقم کمپینوں کوواپس کردی جائے،قدرتی گیس کی قلت اورطلب کے درمیان خلا کو پر کرنے کی ضرورت ہے۔