وزیر اعلیٰ پنجاب کے سابق پرنسپل سیکریٹری کی نیب میں پیشی
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے سابق پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر راحیل احمد صدیقی شراب لائسنس اجرا کیس میں بیان قلمبند کرانے کےلئے آج پھر نیب لاہور میں پیش ہوئے۔ نیب کی تفتیشی ٹیم نے ڈاکٹر راحیل صدیقی سے اڑھائی گھنٹے تک تحقیقات کیں۔ نیب نے انہیں 17 اگست کو پھر طلب کر لیا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کی سابق پرنسپل سیکریٹری نے نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہو کر بیان ریکارڈ کرایا۔
ڈاکٹرراحیل احمد صدیقی کو نیب کی جانب سے گزشتہ روز نجی ہوٹل کو شراب کا لائسنس جاری کرنے کے معاملے میں تفصیلی ریکارڈ کے ساتھ آج دوبارہ پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔
نیب آفس کےباہر میڈیا کے نمائندوں نے جب ڈاکٹر راحیل سے پوچھا کہ کیا آپ نے نجی ہوٹل کو لائسنس کے اجرا کےلئے دبائو ڈالا تھا تو انہوں نے کہا کہ میں نیب میں پیش ہو رہا ہوں اندر جا کر جواب دونگا۔
وزیر اعلیٰ کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے بارے سوال پر ڈاکٹر راحیل صدیقی نے کہا کہ وہ اس حوالے سے باہر کوئی بات نہیں کریں گے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ وہ جس تعلیمی ادارے میں پڑھے ہیں اسکا موٹو ہے کہ درست کام کرو اور کسی سے مت ڈرو۔
نیب نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں ملک کرامت کھوکھر ایم این اے کو بھی آج طلب کیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔ ان کی جگہ ان کے صاحبزادے ملک توقیر کھوکھر نیب کی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے۔
ذرائع کے مطابق توقیر کھوکھر نے نیب حکام کو بتایا کہ ان کے والد خرابی طبعیت کے باعث آج پیش نہیں ہو سکتے۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔