'موجودہ حکومت کی زبان ڈکٹیٹرشپ والی لگتی ہے'
پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنماشازیہ مری کا کہنا ہےکہ موجودہ حکومت کی زبان ڈکٹیٹرشپ والی لگتی ہے۔کراچی سندھ کا دارالحکومت ہے،قبضہ برداشت نہیں ہوگا۔
آج نیوز کے پروگرام فیصلہ آپکا میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاسی ہم آہنگی بہت کم دیکھنےمیں آتی ہے۔آصف زرداری دورمیں ملک کےلئےبہت کام ہوئے۔ ہمارےدورمیں آئین کوصوبوں کی امنگوں کےمطابق کیاگیا۔
انہوں نے کہا تمام کاموں کا کریڈٹ ساری جمہوری طاقتوں کوجاتاہے۔سندھ کےساتھ الگ سلوک کیوں کیاجارہاہے۔یہ تاثردیا جارہاہےکہ کام جمہوری حکومت نہیں کررہی۔موجودہ حکومت کی زبان ڈکٹیٹرشپ والی لگ رہی ہے۔کراچی سندھ کا دارالحکومت ہے،قبضہ برداشت نہیں ہوگا۔
مسلم لیگ ن کےرہنماخرم دستگیر نےکہا کہ موجودہ حکومت کاخمیرآمرانہ ہے۔موجودہ حکومت نےصوبوں کےحقوق سلب کیےہیں۔مسلم لیگ ن کےدورمیں کراچی میں امن وامان خراب تھا۔کراچی میں قیام امن کےلئےوفاق اورسندھ نےملکرکام کیاتھا۔کراچی کےنالےبندہوئےتولاہورکےنالےبھی بندتھے۔بی آرٹی تاحال مکمل نہیں ہوا،کیایہ بھی وفاق کے حوالے کردیں۔صوبوں کےمفادات کاتحفظ پاکستان کی بقاء کےلئے ضروری ہے۔
وزیرمملکت علی محمد خان کاکہناتھاکہ تحریک انصاف ان دوبڑی جماعتوں کےری ایکشن میں بنی۔دونوں جماعتوں نےملک کوبہت زیادہ نقصان پہنچایا۔مستقبل قریب میں سندھ میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ایساکام نہیں کرینگےجوماضی کی حکومتوں نےکیا۔ہمارا گورنرراج کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔کراچی کی طرح لاہوراور پشاور وینس نہیں بنے۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔