اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوازشریف کی ضمانت پر سوال اٹھا دیئے

اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسلم لیگ (ن )کے قائد اور سابق وزیراعظم...
شائع 17 اگست 2020 02:29pm

اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسلم لیگ (ن )کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف کی ضمانت پر سوال اٹھا دیئے ۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ اور جسٹس عامرفاروق پرمشتمل ڈویژنل بینچ نے نوازشریف کی درخواست پر سماعت کی،دوران سماعت عدالت نے نوازشریف کی ضمانت پر سوال اٹھا دیئے۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے پوچھا کہ نواز شریف کی دواپیلیں زیرالتواء ہیں ، 8 ہفتے کی ضمانت کا کیا اسٹیٹس ہے؟ جس پر نمائندہ نوازشریف نے بتایاکہ ضمانت سے متعلق پنجاب حکومت کو درخواست دی تھی ابھی آرڈرکاپی موجود نہیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ نوازشریف کی سزا جومعطل کی تھی بتایا جائے وہ برقرارہے یا نہیں بظاہرملزم اشتہاری ہوچکا ۔

چیف جسٹس نے نوازشریف کی ضمانت ختم ہونے سے متعلق پوچھا تو جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے پنجاب حکومت کو نوازشریف کی ضمانت میں توسیع پر فیصلہ کرنے کا کہا تھا ،نواز شریف کو اسلام آباد ہائیکورٹ کی دی گئی ضمانت غیرمؤثر ہو چکی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ اگرضمانت منسوخ ہے تو اس پر نواز شریف کا اسٹیٹس کیا ہے؟ بظاہراس عدالت کے فیصلے کی حد تک ملزم اشتہاری ہو چکا ہے۔

وکیل نوازشریف نے کہا کہ کہ پنجاب حکومت نے ضمانت میں توسیع دی تھی ابھی آرڈر کاپی موجود نہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ نواز شریف کی ضمانت ہیں یا نہیں پہلے یہ کلیئر کریں۔

عدالت نے نوازشریف کی ضمانت سے متعلق ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت 20اگست تک ملتوی کردی۔