کراچی کے مسائل ،وفاق اور سندھ کے درمیان کمیٹی کا فیصلہ
وزیر اعلٰی سندھ نے کہا ہے کہ کراچی کے مسائل حل کرنے کیلئے سیاسی جماعتوں کی کوئی کمیٹی نہیں بنی۔
میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ کمیٹی بنانے کا فیصلہ ہوا ہے تاہم یہ کمیٹی سندھ اور وفاقی حکومت کے درمیان بنے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت جلذ از جلد بلدیاتی انتخابات کرانا چاھتی ہے، لیکن اگر کسی کے دماغ میں سندھ کی تقسیم کا خناس ہے تو نکال دے۔اہم ترین معاملات سے توجہ ہٹانے کا یہ طریقہ بہت پرانا ہوگیا ۔
وزیراعلی ہاوس میں نیوز کانفرنس میں مراد علی شاہ کا کہنا تھا ہمارا موقف واضح ہے، آئین سے باہر کچھ نہیں ہوسکتا، کچھ لوگ غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کی پالیسیز آئیں کے مطابق بنتی ہیں۔ اور آئیں کے مطابق سندھ اور وفاق کے درمیان کمیٹی کا فیصلہ ہوا ہے۔
حالیہ بارشوں میں کراچی کی صورت حال پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعلٰی سندھ نے کہا کہ کراچی میں اب تک سب سے زیادہ بارش 1977 میں 207 ملی میٹر ہوئی تھی۔لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت سے قبل جب ناظم مالی طور پر مسحتکم تھا اس وقت صورت حال زیادہ خراب تھی۔ 2007 میں 140ملی میٹر بارش ہوئی اور 2 سو لوگ مرے تھے اس برس بارش میں دہائیوں پرانی تصاویر سوشل میڈیا پر شئیر کی گئیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے کہا کہ صرف گذشتہ 3 بر میں 27 ارب کی لاگت سے 38 ترقیاتی منصوبے مکمل کئے ہیں، اس بارش میں کسی انٹر پاس میں پانی نہیں بھرا۔ ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد میں غیرقانونی تعمیرات کی وجہ سے بربادی ہوئی ہے
مراد علی شاہ نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں آئینی روکاوٹیں ہیں لیکن ایڈمنسٹریٹرز کی تعیناتی کیلئے مشاورت جاری ہے۔
وزیر اعلٰی سندھ نے عوام سے اپیل کی کہ احتیاط کریں، کورونا وائرس ابھی ختم نہیں ہوا، کیسز کم ضرور ہوگئی ہیں۔ مگر اب وہاں کیسز آرہے ہیں جہاں پہلے سامنے نہیں آئے۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔