'پیپلز پارٹی نے تو 18ویں ترمیم کو اپنی اوطاق میں رکھ لیا ہے'
ایم کیو ایم نے کراچی کے مسائل کے حل آل پارٹیز کانفرنس کو بلانے اعلان کردیا۔تاہم اے پی سی کے شرکاء کے حوالے سے فیصلہ رابطہ کمیٹی کرے گی۔
بہادرآباد میں ایم کیو ایم کے عارضی مرکز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ اظہارالحسن کا کہنا تھا کہ کراچی کے مسئلے پر کبھی وفاق، کبھی صوبہ پریس کانفرنس کر رہا ہے۔ لگتا ہے دونوں نے انا کا مسئلہ بنایا ہوا ہے۔
خواجہ اظہارالحسن نے کہا وزیراعلیٰ سندھ کی گزشتہ روز کی پریس کانفرنس میں کراچی نہیں تھا۔انہوں نے خود کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی بات کی۔
انہوں نے کہا کہا جاتا ہے کراچی دل ہے، دماغ ہے لیکن جب کراچی کو دینے کی بات کرو تو کہتے ہیں سندھ خطرے میں ہے۔ مسلسل کراچی پر سیاست ہورہی ہے۔ یہ مسئلہ نہ اسلام آباد سے حل ہوگا نا لاڑکانہ سے،کراچی کا مسئلہ کراچی والے ہی کرسکتے ہیں۔
خواجہ اظہارحسن بولے ایگزیکیٹو اتھارٹی ہے کہاں۔وزیراعلی صاحب نے اپنی تقریر میں این ڈی ایم اے اور ایف ڈبلیو او کی تعریف کی۔
پیپلز پارٹی نے تو کے ایم سی کو چھ حصوں میں توڑ دیا ایس بی سی اے بنادیا۔ ایم کیو ایم روز اول سے کہہ رہی ہے کہ لنگڑا لولا بلدیاتی نظام مسائل حل کرنے کے قابل نہیں۔
ان کا کہنا تھا سندھ میں 5 لاکھ نوکریاں دی گئی ہیں، میں کیوں نا اپنے نوجوانوں کےلئے نوکریاں مانگوں۔ جعلی ڈومیسائل کی بات کی تو سندھ کے نوجوانوں نے بھی 10 لاکھ ٹویٹس کیے۔
انہوں نے کہا 18ویں ترمیم میں ہمارے ساتھ دھوکا ہوا ہے۔ پیپلز پارٹی نے تو18ویں ترمیم کو اپنی اوطاق میں رکھ لیا ہے۔ مزید صوبے بننے سے پاکستان مضبوط ہوگا۔
ایم کیو ایم نے کراچی کے مسائل کے حل آل پارٹیز کانفرنس کو بلانے اعلان کردیا۔تاہم اے پی سی کے شرکا کے حوالے سے فیصلہ رابطہ کمیٹی کرے گی۔
خواجہ اظہارالحسن نے پریس کانفرنس کے دوران مصطفی کمال کی سرکاری اجلاسوں میں شرکت کے حوالے سے جواب نہیں دیا۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔