شاہ محمود قریشی اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کے درمیان مبینہ ہاتھا پائی
نجی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور اعظم خان کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد وزیر خارجہ نے ان کے منہ پر تھپڑ دے مارا۔
اطلاعات کے مطابق ہاتھا پائی کے بعد شاہ محمود قریشی نے وزیر اعظم عمران خان کو ان کے دفتر میں جا کر اعظم خان سے متعلق شکایت بھی کی۔
خبر میں دعویٰ کیا گیا کہ شاہ محمود قریشی وزیر اعظم سے ملنا چاہتے تھے لیکن ان کے آفس کے باہر انہیں پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے روک دیا تھا جس پر یہ واقعہ پیش آیا تاہم اب شاہ محمود قریشی نے اس خبرکی واضح طور پر تردیدکردی ہے۔
تاہم وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو تھپڑ مارنے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں نے اعظم خان کو کوئی تھپڑ نہیں مارا۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اعظم خان کو تھپٹر مارنے کی خبر فضول اور بے بنیاد ہے۔
یاد رہے کہ ماضی میں جب جہانگیر ترین کے خلاف چینی انکوائری رپورٹ منظر عام پر آئی تھی تو انہوں نے بھی اسے سازش قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم کے طاقتور پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو ہی اس سازش کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔
تحریک انصاف حکومت میں یہ تھپڑوں والی بات بھی نئی نہیں۔ اس سے پہلے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری بھی دو مرتبہ اس قسم کی حرکتوں میں ملوث پائے جا چکے ہیں۔
ایک مرتبہ انہوں نے سینیئر صحافی سمیع ابراہیم کو ایک محفل میں زدوکوب کیا تھا جب کہ دوسری مرتبہ مبشر لقمان کو بھی انہوں نے ایک شادی کی تقریب میں مار پیٹ کا نشانہ بنایا تھا۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔