سندھ اسمبلی: فنانس ایکٹ میں ترمیم کا بل منظور
سندھ اسمبلی نے فنانس ایکٹ میں ترمیم کا بل اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔
سندھ اسمبلی کا اجلاس قائمقام اسپیکیر ریحانہ لغاری کی صدارت میں شروع ہوا، گریڈ ڈیمولیٹکس الائنس کے اراکین نے اسپیکر کی جانب سے بات کرنے کی اجازت نہ ملے ہر احتجاج کیا۔
ترمیم سے سندھ میں کیپیٹل ویلیو ٹیکس کا خاتمہ کردیا گیا۔ جس سے تعمیراتی صنعت اور رئیل اسٹیٹ کے شعبہ کو فروغ ملے کا۔ تاہم سندھ حکومت کی آمدنی میں 7 ارب روپے سالانہ کی کمی واقع ہوگی۔
ایم کیو ایم کی جانب سے اندرون سندھ کے 19 پولیس افسران کی کراچی منتقلی پر اعتراض اٹھایا گیا تاہم سعید غنی نے بتایا کہ افسران کی کراچی تعیناتی نہیں کی گئی ہے۔
ایم کیو ایم کے رکن جاوید نے اعتراض کیا کہ سندھ حکومت نے اندرون سندھ کے 19 پولیس افسران کو کراچی رپورٹ کرانے کو نوٹیفیکیشن جاری کیاہے ان افسران کے خلاف انکوائریز چل رہی ہیں اس سے قبل بھی حکومت یہی کام کرچکی ہے۔
سروسز رولز کے مطابق سولہ گریڈ تک کی نوکریاں مقامی افراد کی ہوتی ہیں، دنیا پھر میں پولیسنگ مقامی افراد کرتے ہیں، سندھ حکومت نے کراچی کو شکار گاہ بنایا ہوا ہے، اندرون سندھ دبئی چلو کی آوازیں لگ رہی ہیں۔
صوبائی وزیر سعید غنی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ سندھ کے تمام شہری برارب ہیں، پولیس افسران کو کراچی رپورٹ کرایا گیا ہے، وجوہات معلوم نہیں، لیکن ان افسران کو تعیناتی نہیں دی گئی۔
سندھ فنانس ایکٹ میں ترمیم کا بل 2020 ایوان میں پیش کیا گیا، بتایا گیا کہ ایکٹ میں ترمیم سے نا صرف تعمیراتی صنعت اور اس سے وابسطہ صنعتوں کو فروغ ملے گا۔
قائد حزب اختلاف فردوس شمشم نقوی نے بل پر بحث کرتے ہوئے مکمل حمایت کی اور تجویز پیش کی کہ سندھ حکومت مکانات تعمیر کرنے کیلئے غریب اور متوسط طبقے کیلے زمین آسان اقساط پر دینے کا بھی اعلان کرے۔
ایم کیو ایم کے پارلیمان لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے بل پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سی وی ٹی ختم اچھا اقدام ہے، مزید رعاتیں دی جائیں، سندھ بنک مکان کی تعمیر کیلئے قرضے دینے کا بھی اعلان کرے۔
بحث کے بعد بل کو اسپیکر نے رائے شمار کرائی تو ایوان نے بل کی متفقہ طور پر منظوری دے دی،
وزیر ایکسائز مکیش کمار چاولہ نے اسپیکر کی اجازت سے 5 ترمیم بل ایوان میں متعارف کرائے، جو بحث کیلئے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو ارسال کردیئے گئے۔
بعد میں اسپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردیا۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔