گزشتہ ماہ جوہری تنصیب میں دھماکا تخریب کاری تھا: ایران

العالم ٹی وی کے مطابق ایرانی ادارہ برائے جوہری توانائی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ ایران کی نطنز تنصیب میں لگنے والی آگ تخریب کاری کا نتیجہ تھی۔
شائع 24 اگست 2020 07:49pm

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ اصفہان کے قریب واقع نطنزجوہری تنصیب میں لگنے والی آگ تخریب کاری تھی جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم تنصیب کے ایک اہم حصے کو کافی نقصان پہنچا۔

العالم ٹی وی کے مطابق ایرانی ادارہ برائے جوہری توانائی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ ایران کی نطنز تنصیب میں لگنے والی آگ تخریب کاری کا نتیجہ تھی۔

ترجمان بہروز کمالوندی کا کہنا ہے کہ ایرانی سلامتی قوتیں مناسب وقت پر دھماکوں کی وجوہات افشا کریں گی۔

اس سے قبل جولائی میں ایران کے اعلیٰ سلامتی ادارے نے کہاتھا کہ جوہری تنصیب میں لگنے والی آگ کی وجہ کاتعین کرلیا گیا ہے لیکن واقعے کی معلومات بعد میں منظر عام پر لائی جائیں گی۔

ایرانی حکام نے بتایا تھا کہ آگ لگنے سے جوہری تنصیب کو زیادہ نقصان پہنچا ہے جس کے باعث یورینیم افزوگی کے لئے سینٹری فیوجز کی تیاری سست روی کا شکار ہو سکتی ہے۔

خیال رہے کہ 6 جولائی کو ایران کی زیر زمین نطنز جوہری تنصیب میں آگ لگ گئی تھی جس کی وجہ سے مرکز کے ایک اہم حصے کو کافی نقصان پہنچا۔

بہروز کمالوندی نے بتایا تھا کہ اس واقعے سے کافی نقصان پہنچا ہے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

ایران کا یہ زیر زمین نطنز فیول انریچمنٹ پلانٹ یورینیم افزودہ کرنے والی سب سے بڑی تنصیب ہے۔

ایران میں کئی جوہری تنصیبات ہیں جو اقوام متحدہ کے جوہری ادارے کی نگرانی میں کام کرتے ہیں اور نطنز جوہری تنصیب بھی انہی میں سے ایک ہے۔