بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کو برطانوی عدالت نے سخت سزا سنا دی
برطانوی عدالت کی جانب سے بانی ایم کیو ایم کو ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ الزامات پر 44 کروڑ روپے سے زائد کا جرمانہ ادا کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔
الطاف حسین پر منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری میں ملوث ہونے کے الزامات تھے جس پر برطانوی عدالت نے فیصلہ سنا دیا ہے۔
برطانوی عدالت نے الطاف حسین کو 44 کروڑ روپے سے زائد کا جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ الطاف حسین نے 1995 سے 2015 تک برطانیہ کے شہری ہونے کے باوجود کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا۔
الطاف حسین کے ماہانہ اخراجات 50 ہزار پاؤنڈز تک ہیں لیکن ان کی جانب سے کبھی ٹیکس نہیں جمع کروایا گیا۔
عدالت میں بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کے وکیل نے موقف اختیار کیا ہے کہ چونکہ الطاف حسین کے اخراجات عطیات کی رقم سے پورے کیے جاتے تھے اس لیے اس پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہوتا۔
لیکن عدالت نے وکیل کا موقف مسترد کر کے الطاف حسین پر 20 لاکھ پاؤنڈز یعنی 44 کروڑ 10 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد کا جرمانہ عائد کر دیا۔ جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں الطاف حسین کو جیل بھی جانا پڑ سکتا ہے۔












اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔