بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کو برطانوی عدالت نے سخت سزا سنا دی

برطانوی عدالت کی جانب سے بانی ایم کیو ایم کو ٹیکس چوری اور منی...
شائع 03 ستمبر 2020 09:24am

برطانوی عدالت کی جانب سے بانی ایم کیو ایم کو ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ الزامات پر 44 کروڑ روپے سے زائد کا جرمانہ ادا کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔

الطاف حسین پر منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری میں ملوث ہونے کے الزامات تھے جس پر برطانوی عدالت نے فیصلہ سنا دیا ہے۔

برطانوی عدالت نے الطاف حسین کو 44 کروڑ روپے سے زائد کا جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ الطاف حسین نے 1995 سے 2015 تک برطانیہ کے شہری ہونے کے باوجود کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا۔

الطاف حسین کے ماہانہ اخراجات 50 ہزار پاؤنڈز تک ہیں لیکن ان کی جانب سے کبھی ٹیکس نہیں جمع کروایا گیا۔

عدالت میں بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کے وکیل نے موقف اختیار کیا ہے کہ چونکہ الطاف حسین کے اخراجات عطیات کی رقم سے پورے کیے جاتے تھے اس لیے اس پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہوتا۔

لیکن عدالت نے وکیل کا موقف مسترد کر کے الطاف حسین پر 20 لاکھ پاؤنڈز یعنی 44 کروڑ 10 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد کا جرمانہ عائد کر دیا۔ جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں الطاف حسین کو جیل بھی جانا پڑ سکتا ہے۔