سپریم کورٹ:شہبازشریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی نیب کی اپیل خارج

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے مسلم لیگ (ن)کے صدر شہبازشریف کا نام...
اپ ڈیٹ 27 اکتوبر 2020 02:25pm

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے مسلم لیگ (ن)کے صدر شہبازشریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ(ای سی ایل )میں ڈالنے کی نیب کی اپیل خارج کردی۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2رکنی بینچ نے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی نیب اپیل کی سماعت کی،ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل نیب جہانزیب بھروانا عدالت میں پیش ہوئے ۔

نیب وکیل نے مؤقف اپنایا کہ اکثرملزمان ای سی ایل میں نام نہ ہونے کی وجہ سے فرارہو جاتے ہیں ،انکوائری کے مراحل میں مختلف مقدمات کے6 ملزمان ملک سے بهاگ چکے ہیں، ملزم شہباز شریف پر آمدنی سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے، ملزم منی لانڈرنگ میں بهی ملوث ہے۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ جب یہ درخواست دائرکی گئی تهی اس وقت صورتحال مختلف تهی،نیب جس کا نام ای سی ایل میں ڈالنا چاہتا ہے وہ ملک کی نامور شخصیت ہے۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ منی لانڈرنگ سے متعلق 4 دن پہلے 10رکنی فل کورٹ کا فیصلہ آیا ہے،آپ فیصلہ پڑھ کر کیوں نہیں آتے ۔

نیب وکیل نے عدالت کوبتایا کہ لاہورہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کوئی وجوہات تحریرنہیں کیں ،لاہور ہائیکورٹ نے قوانین وضوابط کے مطابق فیصلہ نہیں دیا۔

جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیئے کہ اگرکوئی نئی بات ہے تو عدالت کو بتائیں۔

سپریم کورٹ نے شہبازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا لاہورہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف نیب کی ایپل خارج کردی۔

یاد رہے کہ لاہورہائیکورٹ کےفیصلے کیخلاف نیب نے سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی، لاہورہائیکورٹ نے شہبازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا تھا۔