اے ٹی آر طیارہ حادثہ کیس : ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں پی آئی اے ذمہ دار قرار
کراچی :سندھ ہائیکورٹ میں پی آئی اے اے ٹی آر طیارہ حادثہ کیس کی سماعت کے دوران ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ نے پی آئی اے کوحادثہ کا ذمہ دار قراردے دیا جبکہ سی اے اے نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔
سندھ ہائیکورٹ میں پی آئی اے اے ٹی آر طیارہ حادثہ کیس کی سماعت ہوئی، ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ نے پی آئی اے کوحادثہ کا ذمہ دار قراردے دیا۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے )نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔
رپورٹ میں بتایا گیا پائلٹ کو انتہائی پیچیدہ نوعیت کی تکنیکی خامی کا سامنا کرنا پڑا حادثہ ٹربائن بلیڈ ٹو ٹنے کی وجہ سے ہوا، ٹربائن کا بریک ہونا پی آئی اے منٹیننس کی بے ضابطگی کا نتیجہ ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیاماہرین کا کہنا ہے اس سے پہلے اس نوعیت کی خامی کبھی نہیں ہوئی، ایسی صورت حال میں پائلٹ کیلئے طیارہ کو کنٹرول کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔
اس سے پہلے سماعت شروع ہوئی تو سول ایوی ایشن حکام نے ابتدائی رپورٹ عدالت میں پیش کی جس پرجسٹس محمد علی مظہر نےحکام سے استفسار کیا کہ حادثے کو4سال ہوگئے آپ نے ابھی تک حتمی رپورٹ ہی تیارنہیں کی۔
سول ایوی ایشن حکام کا مؤقف تھا کہ طیارہ کی مینوفیکچرنگ تین ممالک کی ہے، فرانس اورکینیڈا سے رپورٹ آچکی ہے،اوور ہالنگ اور ایکسیلریشن کی رپورٹ امریکا سے آنا باقی ہے2016 میں اے ٹی آر طیارہ حادثے میں معروف اسکالر جنید جمشید بھی شہید ہوگئے تھے۔
عدالت نے مکمل رپورٹ جمع کرانے کیلئے انیس نومبر تک مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔