گستاخانہ خاکوں کامعاملہ:مولانافضل الرحمان کاجمعےسےاحتجاج کا اعلان
پی ڈی ایم اورجمعیت علمائےاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر ملک بھر میں جمعہ سے پورا ہفتہ احتجاج کرنے کا اعلان کیاہےاور قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ بھی پورا ہفتہ احتجاج کریں اور فرانسیسی مصنوعات کے استعمال کا بائیکاٹ کردیں۔
سکھر کے مدرسہ منزل گاہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانس کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کیے جائیں۔
انکا کہنا تھا کہ یہ عجیب یورپ ہے جو خوف کو حضرت عیسیٰ کا پیروکار کہتا ہے مگر جب وہاں حضرت عیسی کی توہین ہوتی ہے تو اس کے لئے بھی مسلمانوں کو احتجاج کرنا پڑتا ہے۔
انکا کہنا تھاکہ گستاخانہ خاکوں سے دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔فرانس کے صدر کی ہدایات پر گستاخانہ خاکوں کو عمارتوں پر آویزاں کیا گیا۔فرانس کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے دوران بامیان کے اندر بدھا کے بت کو توڑنے کی کوشش کی گئی تھی جس پر اگلے روز فرانس کے سفیر جس سے میری ملاقات طے تھی وہ منسوخ کردی گئی تھی۔
انہوں نے کہایہ لوگ مذہب کے حوالے سے بے حس ہوچکے ہیں ہمیں ان کی سوچ اور فلسفہ قبول نہیں ہے۔
مولانافضل الرحمان نےپشاور میں مدرسےمیں ہونے والے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پشاور جیسے شہر میں خاص کر مدرسے میں دھماکاافسوسناک ہے۔ہماری ہمدردیاں شہداء اور زخمیوں کے ورثاء کے ساتھ ہیں اگر حکومت اور ریاستی ادارے ہمیں تحفظ نہیں دے سکتے تو میں مدارس سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنی سیکیورٹی کے انتظامات کریں۔پشاور واقعہ ایک بزدلانہ اقدام ہے دینی مدرسے میں چھوٹے بچوں کو نشاہ بنایا گیا ہے جو قابل مذمت ہے۔
انہوں نےکہا کہ 27 اکتوبر کشمیریوں سے یکجہتی کا دن ہے اور ہم ان سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں ہم اپنے کشمیریوں بھائیوں کی جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں کہا کہ جب تک قوم کو اس کے ووٹ کی امانت واپس نہیں کریں گے اس وقت تک پی ڈی ایم کے جلسے جاری رہیں گے۔
عمران خان کےنوازشریف کے حوالے سے دیے گئے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ عمران خان جب بھی کوئی بات کرتا ہے وہ بونگی ہوتی ہے۔اگر عمران خان سنجیدہ ہے تو عوام کےجان ومال کے تحفظ کی ذمہ داری اٹھائے مداری نہ بنے۔ ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ وہ باہر کاایجنٹ ہے جس کا مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ اس جمہوری ملک میں میڈیا کنٹرولڈ ہے ہم معاشی بحران میں صحافی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں ان کا کہنا تحا کہ ملک میں نیب ایک انتقامی ادارہ بن چکا ہے جو اپوزیشن کے خلاف استعمال کیا جارہاہے۔
انکا کہنا تھا کہ جزائر کے حوالے سے جے یوآئی کاموقف واضح ہے میں گجرانوالہ ،کراچی اور کوئٹہ کے جلسے میں کہہ چکاہوں کہ جزائر پر صوبوں کا حق ہے وفاق کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ ان پرقبضہ کرے۔
مولانا فضل الرحمان نے آخر میں یہ بھی پیشگوئی کردی کہ ملک میں جو حالات چل رہے ہیں ان میں یہ حکومت شاید دسمبر تک چل سکے۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔