اسلام آبادہائیکورٹ : فیصل واوڈا کی کیس کی کارروائی فوری روکنےکی استدعامسترد

اسلام آباد:اسلام آبادہائیکورٹ نے وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی کیس ...
اپ ڈیٹ 04 نومبر 2020 12:24pm

اسلام آباد:اسلام آبادہائیکورٹ نے وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی کیس کی کارروائی فوری روکنے کی استدعا مسترد کردی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامرفاروق نے وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی نااہلی کیلئے دائردرخواست پرسماعت کی۔

عدالت نے فیصل واوڈا کی کیس کی کارروائی فوری روکنے کی استدعا مسترد کرتےہوئے درخواست پرفریقین کونوٹس جاری کردیئے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اسٹے نہیں دوں گا اور الیکشن کمیشن کا ریکارڈ دیکھ کر فیصلہ کر دیں گے۔

فیصل واوڈا کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں 4 درخواستیں زیر سماعت ہیں جس پر بیرسٹر جہانگیر جدون نے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن جا کر کہتے ہیں کہ معاملہ ہائیکورٹ میں بھی چل رہا ہے۔

عدالت نے فیصل واوڈا کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے جواب جمع کروا دیا ہے؟ آپ نے الیکشن کمیشن کی آرڈر شیٹس درخواست کے ساتھ کیوں نہیں لگائیں؟ آپ الیکشن کمیشن میں بھی نہیں پیش ہو رہے۔

وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے جواب جمع نہ کرانے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واضح حکم دیا تھا کہ جواب جمع کرائیں تو کیوں نہیں کرایا ؟ الیکشن کمیشن نے فیصل واوَڈا کے کاغذات نامزدگی سمیت تمام ریکارڈ عدالت میں جمع کروا دیا اور کہا کہ فیصل واوڈا کے وکیل ادھر پیش نہیں ہورہے اور یہاں بھی یہی کر رہے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چھپن چھپائی کا کھیل نہ کھیلیں، ان چیزوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ ریکارڈ کے ساتھ دہری شہریت نہ رکھنے کا فیصل واوڈا کا بیان حلفی بھی دیا گیا ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس یہ ہےفیصل واوڈا کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت دہری شہریت رکھتے تھے اور 11 جون 2018 کو بیان حلفی جمع کرایا کہ دہری شہریت نہیں رکھتے جبکہ شہریت ترک کرنے کی درخواست تو بعد میں 25 جون 2018 کو منظور ہوئی تو اس کا مطلب ہے کہ جب بیان حلفی جمع کروایا گیا تو وہ امریکی شہری تھے۔